تھر کا کوئلہ پاکستان کی قسمت بدل سکتا ہے:شاہد رشید بٹ کا دعویٰ

تھر کول سے دو سو سال تک ماہانہ ایک لاکھ میگاواٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے

اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ تھر میں موجود 175 ارب ٹن کوئلے کی مدد سے اگلے دو سو سال تک ماہانہ ایک لاکھ میگاواٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے جس سے آئل اور گیس امپورٹ بل میں اربوں ڈالر کی کمی جبکہ بجلی کی برامد سے کم از کم پچیس ارب ڈالر سالانہ کمائے جا سکتے ہیں جو پاکستان کی مجموعی برامدات سے زیادہ ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شاہد رشید بٹ نے ایک بیان میں کہا کہ تھر میں کوئلے کے ذخائر میں سعودی عرب اور ایران کے آئل اینڈ گیس کے مجموعی زخائر سے زیادہ توانائی موجود ہے ۔تھر میں مدفون ذخائر میں موجود توانائی پاکستان کے گیس کے مجموعی زخائر سے 68گنا زیادہ ہے جس کی مالیت کا اندازہ پچیس کھرب ڈالر سے زیادہ ہے ۔
نو ہزار کلو میٹر کے رقبے پر پھیلے ان ذخائر کو ملک و قوم کے مفاد میں استعمال کرنے سے پاکستان کم وقت میں ایک ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے جہاں بدامنی اور بے روزگاری کا نام و نشان تک نہ ہو گا۔اس وقت پاکستان میں بجلی کی کل پیداوار اٹھائیس ہزار میگاواٹ،ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن سسٹم کی خامیوں کی وجہ سے قابل تقسیم بجلی بائیس ہزار میگاواٹ جبکہ گرمیوں کی طلب پچیس ہزار میگاواٹ ہے جبکہ تھر کول سے قلیل مدت میںپاکستان میں بجلی کی پیداوار سرپلس کر کے لوڈ شیڈنگ کا نام و نشان مٹا یا جا سکتا ہے۔

Comments
Loading...