کیا پاکستان کا بڑا مسئلہ ناخواندگی ہے؟ – عبدالرب

دنیا کے 25 ممالک ایسے ھیں جہاں 99 فیصد سے زائد شرح خواندگی پائی جاتی ھے۔۔۔ اور 90 ممالک ایسے ھیں جن میں 90 فیصد سے زائد آبادی خواندہ ھے۔۔۔ اور یہ تمام اقوام اور ممالک سیاسی، معاشی، سماجی اور اخلاقی اعتبار سے باشعور اور مستحکم سمجھے جاتے ھیں۔۔۔

جن ممالک سے ھم اپنا موازنہ کرتے ھیں ان کی شرح خواندگی کا فرق دیکھئے۔۔۔ سعودیہ، ترکی، ایران، امارات اور قطر جیسے تمام ممالک 95 فیصد سے زائد شرح خواندگی والے ممالک میں سے ھیں۔۔۔ چائنہ، روس، اٹلی، جاپان کی بات بھی مت کیجئے کہ انکا ھر ھر فرد پڑھنا لکھنا جانتا ھے۔۔۔

ھمارے ازلی دشمن انڈیا کی صورتحال بھی ھم سے کہیں بہتر ھے، اگرچہ رینکنگ میں 124واں نمبر ھے مگر 72 فیصد خواندگی کی شرح ھے۔۔۔ جبکہ ھمارا نمبر 144واں ھے اور کل پڑھے لکھے افراد کا تناسب صرف 58فیصد ھے۔۔۔ اور ھم نے اس رینکنگ میں صرف 16 ممالک کو پیچھے چھوڑا ھے جس میں افغانستان، ایتھوپیا، نائیجیریا، اور موزمبیق یا چاڈ جیسے ممالک ھیں۔۔۔

اور لطف کی بات یہ ھے کہ دنیا کی رینکنگ میں پہلے 100 ممالک جن کے ھاں تقریبا 90 فیصد آبادی پڑھی لکھی ھے، انکا ذریعہ تعلیم انکی اپنی مادری زبان ھے اور وجہ انکی سرکاری زبان ھے اور دفتری بھی۔۔۔ اور نظام تعلیم سرکاری ھے، مفت ھے، اور یکساں ھے۔۔۔

اور ھمارا حال یہ ھے کہ ھمارا نظام تعلیم 6 درجوں میں اور 8 مختلف طبقاتی تقسیموں یا نظاموں میں بٹا ھوا ھے۔۔۔

آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت حکومت پر لازمی ھے کے 5 سال سے 16 سال تک کے بچوں کے لئے ضروری اور معیاری تعلیم کا مفت انتظام کرے۔۔۔ لیکن نائیجیریا کے بعد ھم دنیا کا دوسرا ملک ھیں جہاں 51 فیصد سے زائد بچے سکول نہیں جاتے۔۔۔ اور جو سکول چلے جائیں تو 81 فیصد سے زائد پرائمری سے آگے نہیں جا پاتے۔۔۔

ھمارے ھاں تقریبا 68000 سکولز پرائیویٹ ھیں جو سرکاری سکولز کے تناسب سے تیسرا حصہ ھیں۔۔۔ 12 کروڑ بچوں کو صرف 2لاکھ سکولز میسر ھیں۔۔۔ گویا 600 بچوں کے لئے ایک سکول۔۔۔ اور ان سکولوں کی حالت زار کیا ھے وہ یہاں زیر بحث نہیں ھے۔۔۔

جبکہ 40000 کے لگ بھگ دینی مدارس اس کے علاوہ ھیں، جن میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 20 لاکھ سے زائد طلباء زیر تعلیم ھیں۔۔۔ اس تمام تعداد کو بھی ھم خواندگی کی شرح میں شمار کررھے ھیں۔۔۔

آئین میں ایک ترمیم کے ذریعے وفاقی حکومت نے تعلیم کا سارا بوجھ صوبائی حکومتوں پر ڈال دیا ھوا ھے، اور صوبائی حکومتوں نے اس اھم ترین ذمہ داری کو غیر ملکی امداد اور ھدایات پر ڈال دیا ھوا ھے۔۔۔ یہ بھی ایک الگ موضوع ھے۔۔۔ مگر افسوس کہ ھم اپنے ملک کے کل بجٹ کا صرف 2 سے 3 فیصد اپنی تعلیمی ضروریات پر خرچ کرتے ھیں۔۔۔ باقی کا سارا نظام پرائیویٹ فیسز ، بیرونی امداد یا مقامی چندے پر چل رھا ھے۔۔۔ اسکے اثرات کیا ھیں؟ وہ ابھی یہاں ذکر نہیں ھو رھے۔۔۔۔۔

ھماری یونیورسٹیاں سالانہ 44500 گریجویٹس تو پیدا کرتی ھیں مگر۔۔۔ ھماری آبادی کا تقریبا نصف اپنا نام لکھنا یا پڑھنا نہیں جانتا۔۔۔ لیکن خوشی کی بات یہ ھے کہ ھم دنیا کی ‘ٹاپ انگلش اسپیکنگ نیشن’ ضرور ھیں۔۔۔

اور اگر اعلی تعلیم کی بات کی جائے تو 2017 تک امریکا میں کل فارغ ھونے والے پی ایچ ڈیز کی تعداد 67449 تھی، (اگرچہ یہ سب امریکن نہیں تھے، اس میں سے 16039 یعنی ایک چوتھائی تعداد جاپانیوں کی تھی) اور اس لسٹ میں انڈیا چوتھے نمبر پر تھا جسکے پی ایچ ڈیز کی تعداد 24300 تھی۔۔۔ اور پاکستان میں اس وقت تک کل پی ایچ ڈی افراد کی تعداد 8142 ھے۔۔۔ جو پہلے 30 ممالک کی رینکنگ میں کہیں شمار نہیں کی گئی۔۔۔

اور اگر پاکستان میں یونیورسٹی لیول پر رینکنگ کی بات کی جائے تو دنیا کی بہترین 500 یونیورسٹیوں میں پاکستان کی صرف دو یونیورسٹیوں PIEAS کا نمبر 397 اور NUST کا نمبر 417 ھے۔۔۔ جبکہ ٹاپ 1000 کی بات جائے تو شاید 7 اور یونیورسٹیوں کے نام بھی آ جائیں گے۔۔۔ ایشیا میں بھی ھم ٹاپ 100 یونیورسٹیوں کی رینکنگ میں کہیں نہیں ھیں۔۔۔ 112 ویں نمبر پر NUST کا ذکر آتا ھے۔۔۔

کسی کا دل توڑنا، مایوسی پھیلانا یا منفی پروپیگنڈا مقصد نہیں ھے۔۔۔ پاکستان کے حقیقی مسائل کو سمجھئے۔۔۔ سیاستدان، علماء، اشرافیہ، مقتدر طبقہ، دینی و سماجی تحریکیں اور جماعتیں۔۔۔ سب کو دعوت فکر ھے۔۔۔

پاکستان کو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل بنانا ھے تو اس قوم کو شعور دینا ھوگا۔۔۔ جو صرف تعلیم سے آ سکتا ھے۔۔۔

Comments
Loading...