نواز شریف ضمانت کیس کا فیصلہ محفوظ

نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت میں سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت مکمل ہو چکی ہے. اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس نے نیب سے بھی سوالات کئے اور کہا کہ نیب کےسارے ملزم بیمارکیوں ہوجاتےہیں؟ . نیب کےہرکیس میں ملزم کی بیماری کامعاملہ سامنےآجاتاہے.

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب اتنےارب روپےریکورکرتاہے،ایک اچھااسپتال ہی بنالے، لگتاہےنیب ملزمان کوذہنی دباؤ زیادہ دیتاہے .نیب رویےکی وجہ سےلوگ خودکشی کرنےلگ گئے ہیں.
جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ نوازشریف کی زندگی کوخطرہ نہیں . نوازشریف کی انجیوگرافی پاکستان میں ہوسکتی ہے. اسپتالوں میں جدیدترین سہولتیں موجودہیں.
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت کیس کی سماعت کے دوران غیر ملکی ڈاکٹر لارنس کا خط پیش کر دیا گیا.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی. نواز شریف کے غیر ملکی ڈاکٹر لارنس کے خط کی مصدقہ کاپی عدالت میں پیش کی گئی۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا یہ خط عدنان نامی شخص کے نام لکھا گیا ہے، ڈاکٹر لارنس کا یہ خط عدالت کے نام نہیں لکھا گیا، اس خط کی قانونی حیثیت کیا ہو گی؟ اس کے مصدقہ ہونے کا ثبوت نہیں، یہ خط ایک پرائیویٹ شخص نے دوسرے پرائیویٹ شخص کو لکھا ہے، آپ نے میرٹ کی بنیاد پر دائر پٹیشن واپس لے لی تھی۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا نواز شریف کی صحت کا معاملہ بعد میں سامنے آیا، نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینے کیلئے 5 میڈیکل بورڈ بنے، پانچوں میڈیکل بورڈز نے نواز شریف کو ہسپتال داخل کرانے کی سفارش کی، میڈیکل بورڈز نے سفارش کی کہ نواز شریف کو علاج کی ضرورت ہے، 30 جنوری کو پی آئی سی بورڈ نے بڑے میڈیکل بورڈ بنانے کی تجویز دی، میڈیکل بورڈ نے ایک سے زائد بیماریوں کے علاج کی سہولت والے ہسپتال میں داخلے کا کہا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت مسترد کی۔ جس کے بعد مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا .

Comments
Loading...