میری پہچان میری شناخت – محمد عبداللہ

23 مارچ انیس سو چالیس کا وہ دن تھا کوئی سندھ سے آیا تھا ، کوئی بلوچستان سے، کوئی شمال سرحدی صوبے سے، کچھ قافلے کشمیر سے چلے تھے، کچھ مردان حر بنگال سے تشریف لائے تھے اور کچھ دیوانے پنجاب کے غرض کے ہندوستان بھر سے آنے والے مسلمانان ہند لاہور منٹو پارک میں آن جمع ہوئے تھے۔ سب کے رنگ و نسل، ذاتیں پاتیں جدا جدا تھے، زبان متفرق تھی عقائد و نظریات میں لاکھ اختلافات تھے مگر زبان پر چند کلمات کی ادائیگی میں ان نفوس کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا، ایک زنجیر میں جکڑ دیا تھا، ایک جسد واحد بنا دیا ، وہ کلمات لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے کلمات تھے جن کا یہ فیضان تھا کہ لاکھوں کا مجمع ایک رنگ پیش کر رہا تھا اسلام کا رنگ، ایک زبان بول رہا تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ، ایک عزم کا اعادہ ہو رہا تھا بن رہے گا پاکستان، ایک جہد مسلسل کا عہد ہو رہا تھا کہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر اس کرہ ارض پر ایک بستی بسائے جائے گی جہاں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی حکمرانی ہوگی، جہاں اسلام کا بول بالا ہوگا، جہاں سے اندلس و اقصیٰ کی جانب قافلے نکلیں گے، جہاں سے امت کو ایک ہونے کا پلیٹ فارم دیا جائے گا، جہاں عزت و عصمت محفوظ و مامون ہوگی۔ یہ وہ دن تھا کہ جس دن نے تحریک آزادی کو ایک سمت دی تھی، اس دن مسلمانان ہند کو اپنی منزل دوگام دکھائی دی تھی، جس دن دھڑکتے دلوں اور ڈگمگاتے قدموں کو سکون اور حوصلہ ملا تھا۔ یہ دن پاکستان کی آزادی کی تحریک میں ایک روشن اور واضح سحر تھی جس نے آزادی کے پروانوں کو آزاد فضاؤں میں اللہ اکبر کی صداؤں تلے جینے کی امنگ دی تھی ، ان کی آنکھوں میں آزادیوں کے دیپ جلائے تھے۔ قرارداد لاہور جس کو ہندو پریس نے طنزیہ قرارداد پاکستان لکھا اور بولا جو پاکستان کے قیام کا واضح سبب بنی تھی اسی دن لاہور کے اس منٹو پارک میں پیش کی گئی تھی جس میں واضح طور پر اسلام کے نام پر ایک الگ ریاست کے قیام کا زبردست مطالبہ اور عزم تھا۔ اگلے سات سال تو اس عزم پر ڈٹ جانے کے تھے کہ جس کے انعام میں مسلمانان ہند کو امت مسلمہ کی پاسبانی کی خاطر یہ مملکت خداداد ودیعت کی گئی تھی۔ پھر لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی اس بستی کو دیکھنے کی خاطر ہجرتوں کے سفر شروع ہوئے تھے، ہجرتوں کے سفر کیا تھے ظلم و جور اور کرب و بلا کی داستانیں تھیں۔ پچاس لاکھ لوگ فقط ایک لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ بنیاد پر ہر چیز کو ٹھکراتے ہوئے دیوانہ وار اس ارض پاک کی طرف دیوانہ وار بڑھے تھے۔ ان میں سے سولہ لاکھ رستے میں کٹ گئے، قتل ہوگئے، بچوں کو کرپانوں پر اچھالا جاتا تھا، عصمتوں کو باپوں کے سامنے تارتار کیا جاتا تھا، لہو کے دریا بہے تھے ایک نہیں کتنی نسلوں کا مستقبل قربان ہوا لا الہ الا اللہ پر تب یہ قائم پاکستان ہوا لاکھوں ہجرت کی پر نور راہوں میں شہادت پا کر سفر جنت پر روانہ ہوئے تھے اور باقی ماندہ خونی لکیر کو عبور کرتے ارض پاک پر پہنچتے ہی سبز ہلالی کے سائے تلے رب ذوالجلال کے حضور سجدہ شکر کے لیے ریز ہوجاتے تھے۔ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی مشکلوں کا ایک کوہ گراں تھا جو اس نوزائیدہ ریاست پر آن پڑا تھا مگر اللہ کی توفیق کے ساتھ ایک کے ساتھ ایک ذمہ داری سے عہدہ برا ہوتے چلے گئے۔ اس میں انسانوں کا کوئی کمال نہیں تھا یہ لا الہ الا اللہ کی برکت تھی۔ مگر جب تھوڑے مستحکم ہونا شروع ہوئے تو اس لاالہ الا اللہ سے غفلت برتنے لگے، اسلام پس پشت جانے لگا۔ مفادات و مصلحتیں آڑے آنے لگیں، جذبہ جہاد اور غیرت ایمانی قصیہ پارینہ بننے لگی تو ایک ناقابل تلافی نقصان تھا جو اس پاکستان کو اٹھانا پڑا کہ عین عالم شباب میں مشرقی پاکستان چند ہی دنوں میں ہمارے سامنے نفرت کی آگ میں جھلسنے لگا۔ لوگ کہتے ہیں دشمن کی سازشیں تھیں، اپنوں کی غداریاں تھیں، کچھ ستم اپنوں نے ڈھائے تھے ، کچھ نشتر صف اغیار سے آئے تھے اور ہمارا پوربو پاکستان بنگلہ دیش کی شکل میں ہمارے سینے پر ایک گھاؤ کی صورت میں موجود تھا۔ لوگ اس کو کچھ بھی کہیں مگر میں صاف کہتا ہوں کہ یہ تب ایک سب سے بڑی غداری تھی اور وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے غداری تھی، نظریہ پاکستان سے غداری تھی کہ جس نے ہمیں یہ دن دکھایا تھا۔ کیونکہ پاکستان کے مشرقی اور مغربی دونوں حصوں میں نہ رنگ ایک تھا، نہ نسل ایک، نہ زبان ایک، نہ رسم و رواج ایک بس ایک چیز مشترک تھی جس نے ایک لڑی میں پرویا تھا اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور نطریہ پاکستان تھے جب وہ ہی درمیان سے بھلا دیا گیا تو نفرت کی آگ سے جب تک ہوش آتا سب کچھ جل کر بھسم ہوچکا تھا۔ آج ہم ایک ایسے پاکستان میں کھڑے ہیں جو چہار اطراف سے دشمنوں کے گھیرے میں گھرا ہوا ہے، سازشیں، دشمنیاں، پراکسیز، انتشار و افتراق، مایوسی، فرقہ واریت، لسانیت، صوبائیت، قومیت اور ان جیسے سینکڑوں چیلنجز میں پھنسا ہوا اپنے بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے اور ہم سب پاکستانی انہی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ یاد رکھو ان سب مسائل سے نکلنے کا ایک راستہ ہے اور وہ ہے کہ میں اپنی شناخت ، اپنی پہچان وہ بنا لوں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی تھی، آپﷺ کے صحابہ کی تھی، جو مکہ سے مدینہ جانے والوں کی تھی، جو بدر میں اپنے بھائی بندوں کے سامنے کھڑے لشکر مسلم کی تھی، جو مکہ کو فتح کرنے والوں کی تھی، جو قادسیہ کے میدان کو کفر کا قبرستان بنانے والوں کی تھی، جو کسریٰ و قیصر کے تخت و تاج کو تاراج کرنے والوں کی تھی، جو جبل طارق پر کشتیاں جلانے والوں کی تھی، جو چینی شہزدوں کی گردنوں پر مہر غلامی لگانے والے جرنیل اسلام کی تھی، جو سندھ کو باب الالسلام بنانے والے محمد بن قاسم کی تھی، جو تئیس مارچ کو لاہور میں جمع ہونے والوں کی تھی جو ہجرتوں کی پرنور راہوں پر شہداء کی تھی اور وہ پہچان وہ شناخت لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شناخت اور پہچان تھی۔

Comments
Loading...