کالعدم تنظیموں کے خلاف بات کرتا ہوں‌ تو ملک دشمن کہا جاتا ہے. بلاول

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خون اور لاشیں گرنے کے باوجود حکومت فیصلہ نہیں کر سکی کہ شہیدوں‌ کے ساتھ ہے یا قاتلوں کے ساتھ،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول زرداری نے کوئٹہ کا دورہ کیا اور سانحہ ہزار گنجی کے متاثرین سے ملاقات کی.انہوں نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء سے تعزیت کی .اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ بھی ہمراہ تھے .بلاول نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خون اور لاشیں گرنے کے باوجود حکومت فیصلہ نہیں کر سکی کہ شہیدوں‌ کے ساتھ ہے یا قاتلوں کے ساتھ، یہ افسوسناک بات ہے،ریاست کو اب فیصلہ کرنا پڑے گا. ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک دن وزیر داخلہ کہتا ہے کہ شہیدوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ساتھ ویڈیو موجود ہو کہ جب تک ہم موجود ہیں ان کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا. ہم کب تک دہشت گردی برداشت کرتے رہیں گے. ظلم کا مقابلہ ملکر کرنا پڑے گا. ملک کے لئے فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اس سر زمین کو اس سوچ سے پاک کرنا پڑے گا.انہوں نے کہا کہ سب جماعتوں نے مشترکہ طور پر نیشنل ایکشن پلان بنایا لیکن آج تک اس پر عمل نہیں ہو سکا. جب کالعدم تنظیموں کے خلاف بات کرتا ہوں‌تو ملک دشمن قرار دیا جاتا ہوں کیا ملک دشمن ہوں‌جو مظلوموں کے لئے انصاف مانگتا ہون .ملک دشمن تو وہ ہیں جو دہشت گردوں کو سیاسی فائدہ پہنچاتے ہیں. اگر مین سٹریم کرنا ہے تو دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو مین سٹریم کریں دہشت گردوں کو نہیں، جب تک دوغلی پالیسی چلتی رہے گی تب تک ہمیں انصاف نہیں ملے گا. میں شہید کا بیٹا ہوں ، چین سے نہیں بیٹھوں گا،

Comments
Loading...