آخرکب تک–بنت مہر

۷۹۸۱ میں تھیوڈرو ہرزل نے نظریہ صیہونیت کی بنیاد رکھی جس کی رو سے یہودی دنیا کے کسی بھی ملک کے شہری ہوں ان کی وفاداریاں ایک ہی مرکز کے گرد رہیں گی اور وہ مرکز یہودیوں کی اپنی آبائی ریاست ہو گی اس ضمن میں ڈاکٹر ہرزل نے یہودی کے سامنے یہ نظریہ پیش کیا کہ کوئی بھی یہودی جو مذہبی اعتبار سے کیسا ہی بے راہ رو اور بدعمل کیوں نہ ہو مگر اسے یہود کی فلاح و بہبود کے لیے بہرحال کام کرنا چاہیئے۔ اس دن سے یہود کی سیاسی تحریک کا نام صیہونیت قرار پایا تحریک کا بانی یہ رسوائے زمانہ خواب آنکھوں میں لیے ۴۰۹۱ ؁ میں مر گیا لیکن مرنے سے قبل ۸۹۸۱ ؁ میں یہودی بینک اور ۲۰۹۱ ؁ میں یہودی بیت المال قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا بینک کا مقصد یہودیوں کی منتشر کی بچت کو جمع کر کے اس سے سرمایہ کاری کرنا اور اس سرمائے سے حکومتوں ،اداروں اور اہم افراد کو قرضے جاری کر کے ان سے اپنے کام نکلواناتھا اس بینک کا منظور شدہ سرمایہ ۰۳ لاکھ پاؤنڈ تھا اور ۴ لاکھ کی رقم اعلان ہوتے ہی جمع کر لی گئی ہرزل نے یہود کے بڑوں کو جمع کر کے یہ منشور منظور کروایا کہ دنیا کے ہر یہودی کے لیے ضروری ہے کہ ہر ماہ اپنے مال کا ایک متعین حصہ اسرائیل کے لیے بطور چندہ ادا کرے یہ شرح جسے دنیا کا ہر یہودی ادا کرتا ہے اس کے علاوہ بھی یہودیوں نے اپنے خفیہ خزانوں کے منہ کھول دیے صرف ایک یہودی بیرن دی ہرش نے اپنی جیب سے اس زمانے میں ۰۹ لاکھ پاؤنڈ کا عطیہ دیا تھا فنڈ جمع کرنے کے اس جچے تلے طریقے نے یہودیوں کا ایسا پائیدار بجٹ بنادیا ہے جس پر بدلتے ہوئے حالات اور بحرانوں کا اثر نہیں پڑتا۔
قوم یہود ہزاروں سال کی منصوبہ بندی کر کے رکھتی ہے اورمنصوبے کے عین مطابق معاشی طاقت بننے کے بعد اپنی ذہانت کا کمینگی سے استعمال کرتے ہوئے دنیا کی مضبوط طاقتوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔امریکہ کی حمایت کا حاصل ہونا ان کی منصوبہ سازی کی ایک کڑی ہے امریکہ میںیہودیوں کی تحریک کا آغاز کرسٹوفر کولمبس سے ہوتا ہے مشہور امریکی صنعت کار اور مصنف ہنری فورڈ نے اپنی کتابThe International Jews میں لکھا ہے “کولمبس کے ارادوں کی بھنک پا کر یہودیوں نے اس سے میل جول خوب بڑھا لیا تھااور اس کے ساتھ جانے والے ہمراہیوں میں ایک گروہ یہودیوں کا بھی تھا” نئی سرزمین کے قیام کے بعد کولمبس نے جو پہلا خط لکھا وہ ایک سرمایہ دار یہودی کے نام تھا جس نے اس سفر کے لیے کئی ہزار پاؤنڈز فراہم کیے تھے قیام امریکہ کے بعد یہودیوں نے اس نئی دنیا کی طرف نقل مکانی شروع کر دی اور اس طرح نیویارک دنیا کی یہودی آبادی کا ایک بہت بڑا مرکز بن گیا انہوں نے اس شہر کی زمین کی ملکیت حاصل کرنا شروع کر دی اس کی تجارت سیاست اور انتظامیہ کو اپنے زیر اثرلانا شروع کیا اور اس مقصد کے لیے کہیلا نامی تنظیم وجود میں آئی یہ یہودیوں کی زیر زمین تنظیم جو جتنی پوشیدہ ہے اتنی ہی طاقتور بھی ہے یہ صرف تنظیم نہیں بلکہ ایک خفیہ حکومت ہے ایسی حکومت جس کا ہر قانون اور عمل یہود نوازی، یہود پروری اوریہود کی سرپرستی کے گرد گھومتا ہے اس تنظیم نے امریکی طرز معاشرت ، امریکی فکر اور امریکی ریاست کو اس قدر اپنا تابع بنا لیاہے کہ یہ سب چیزیں یہودیت زدہ ہو کر رہ گئی ہیں عیسائی یہودیوں کے جانی دشمن تھے اور ان کے نزدیک یہودیوں کو دنیا کی خبیث ترین مخلوق قرار دیا جاتا تھالیکن ۸۴۹۱ ؁ میں اسرائیل کے ناجائز وجود کے بعد دنیا بھر سے عیسائیوں کی یہودی دشمنی آہستہ آہستہ ختم ہوتے ہوئے ہمدردی، محبت اور شدید حمایت میں بدل گئی اور اس وقت امریکہ و یورپ میں عیسائی مبلغین ، واعظین اور دانشوروں کاایک بہت بڑا اور وسیع اثرونفوذ رکھنے والا طبقہ ایسا ہے جو اسرائیل سے بڑھ کر اسرائیل کا وفادار اور صیہونیوں سے بڑھ کر اسرائیل مخالفین کا دشمن اور ان کو مٹا دینے کا خواہشمند ہے۔
امریکا کے گستاخ پادری جیری فال ویل ،نیز پارٹ رابرٹسن اور جارج روٹس جیسے وسیع نشریاتی نیٹ ورک رکھنے والے عیسائی مبلغ ایونجلسٹ ہیں جو یہودیوں کی طرح تیسری عالمی جنگ کے منتظر ہیں تاکہ عظیم اسرائیل وجود میں آئے ہیکل ثالث تعمیر ہو یہاں تخت داؤدی لا کر رکھا جائے اور اس پر مسیح بیٹھ کرعالمی حکومت کی باگ دوڑ سنبھالیں یہاں تک یہودیوں میں اتفاق ہے اس کے بعداتنا فرق ہے کہ یہودیوں کے خیال میں ملیسایاح آئے گااور تخت داؤدی پر بیٹھے گا جبکہ عیسائیوں کے خیال میں حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لا کر اس تخت پر براجمان ہوں گے یہ عیسائی اس وجہ سے یہودیوں کے ہمنوا ہیں ان کے خیال میں فلسطین دراصل حضرت عیسی کا وطن ہے اور آپ علیہ السلام پہلی بار کی طرح دوسری مرتبہ بھی یہیں آئیں گے اب عیسائی خود تو پورا زور لگا کر مسلمانوں سے القدس نہ چھین سکے لہذا وہ یہودیوں کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ وہ مسلمانوں کویہاں سے بے دخل کر دیں اور حضرت مسیح تشریف لائیں تو پھر سارے یہودی بھی عیسائی ہو جائیں گیااور اس طرح سے پوری دنیا پر عیسائیوں کی حکومت ہو گی اب دونوں مذاہب تیسری عالمی جنگ جیت کر دنیا پر حکومت کے خواب دیکھ رہے ہیں ٹرمپ کا یروشلم کو اسرئیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اسی سلسلے کی پہلی کڑی تھا ۶۱۰۲ ؁کے انتخابات میں ٹرمپ کا ایک نعرہ یہ بھی تھا کہ وہ منتخب ہو کر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم بنائے گااور جیسے کے سب جانتے ہیں امریکا میں یہودی لابی کا مکمل کنٹرول ہے امریکہ کی تمام بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں ۵۸ بڑے اداروں میں سے ۴۵ پر یہودی بیٹھے ہیں ساری دنیا پر حکمرانی کرنے والے امریکی ادارے “ناسا” کا سربراہ فری میسن یہودی ہے”وال اسٹریٹ” نیویارک جو دنیا بھر کی معیشت کو کنٹرول کرتی ہے کلی طور پر یہودی تسلط میں ہے”مائیکروسافٹ”کمپنی جودنیا بھر کو کمپیوٹرز اور سافٹوئیرز دیتی ہے کا سارا بورڈ آف ڈائریکٹرز یہودی ہے امریکی ایوی ایشن کا ۳۸ فیصد یونیورسٹیوں کا ۰۹ فیصد ادویات کا ۰۷ فیصد شعبہ یہودیوں کے پاس ہے امریکہ کی ۵ سب سے بڑی ایمپائرز ٹائم وارنر ، والٹ ڈزنی، ویٹا کام، یونیورسل اور روپرٹ ڈاک یہودیوں کی جیب میں ہیں سی این این فاکس نیوز ٹائمنیوز ویک نیویارک ٹائمزجیسے نیوز چینل میگزین اور اخبارات کے مالک یہودی ہیں امریکہ کے ۰۹۱ ارب پتیوں میں سے ۰۴۱ یہودی مزہب سے وابستہ ہیں اور اب کار سرکار کی ڈار بھی انہیں انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھ میں ہے ٹرمپ کا داماد اور مشیر جریڈ کوشنز ایک یہودی ہے ڈیوڈ فریڈ مین ٹرمپ کا وکیل اور مقبوضہ فلسطین میں امریکہ کا سفیر بھی یہودی ہے جیسن گرین بلاٹ یہودی بین الاقوامی مذاکرات کا خصوصی نمائندہ ہے ببسٹیون منوحین وزیر مملکت برائے خزانہ ، ہونگیس ٹیون میلر سینئیر مشیر، گری کوہن وائٹ ہاؤس کا قومی اقتصادی مشیر ، کارل ایکن تنظیمی اصلاحات کا خصوصی مشیر بوریس اپسٹائن ٹرمپ کا خصوصی مشیر، ابراہم پر کویچ ٹرمپ اور اس کے داماد کوشنر کا خاص مشیر یہ سب یہودی ہیں اور ٹرمپ کی جیت کے پیچھے ۴۲ فیصد یہودی ووٹرز کی طاقت اور ٹرمپ کے یہودی مشیروں میں جکڑے ہونا اس کے وعدے پر عمل کروانے کے لیے کافی تھا
یہودیوں کی اتنی جامعہ منصوبہ بندی کے مقابلے میں اگر عالم اسلام کی منصوبہ بندی کا جائزہ لیں تو یہ تسلیم کرنا بہت تکلیف دہ ہے کہ عالم اسلام کی سرے سے کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ او آئی سی نے ۵۷۹۱ میں چھٹی کانفرنس میں القدس کمیٹی بنائی اور ساتویں کانفرنس میں القدس فنڈ قائم کیاپھر جون ۱۸۹۱ میں آزادی فلسطین کے لیے Islamic office Military Cooperation With Palestine قائم کیا اور اسرائیل کے دارالحکومت یروشلم منتقل کرنے پر او آئی سی نے دنیا کو دھمکی دی تھی کہ جس ملک کا بھی سفارت خانہ یروشلم منتقل ہو گا اس سے تمام مسلم دنیا اپنے تعلقات توڑ دے گی اس کے علاوہ اسرائیل لا ساتھ دینے ولے ہر ملک کا معاشی بائیکاٹ کرنے کی قرار داد بھی پاس کی گئی لیکن یہ ساری کاروائیاں کاغذوں میں پڑی رہ گئیں اگر عالم اسلام کی ناقص منصوبہ بندی کا یہی حال رہا ہماری مسجدوں اور علاقوں پر یوں ہی ناجائز قبضے ہوتے رہیں گے اور ہم غفلت کی چادر اوڑھے کسی مسیحا کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے ایک دوسرے پر الزام دھرتے رہیں گے آخرکب تک ہم سلطان صلاح الدین ایوبی کی فتح بیت المقدس سے دل بہلاتے رہیں گے وقت آن پہنچا ہے کہ تاریخ دہرا دی جائے عالم اسلام اتحاد کر کے ایک میز پر جمع ہوں جس پر بیٹھ کر تمام اقوام اسلام اپنے قبلہ اول کی آزادی کے لیے کچھ دانش مندانہ منصوبہ بندی کر کے دلیر اقدامات کر سکیں ورنہ القدس ،بابری مسجد اور فرانس کی السنہ مسجد جیسی بہت سی مساجد کے بعد ہمارے قبلہ کی طرف بڑھنے والوں کو بھی نہ روک پائیں گے ۔

Comments
Loading...