خالصتان تحریک کا مستقبل

گرو گوبند سنگھ جی کی خالصتان سے متعلق پیشین گوئی۔

” جن کے کارن پنتھ کا ہو پرکاش اوٹ تھکاون جائیں گے سنگھ انہاں کے پاس ورپ ملک کی مان کے کھاویں گے۔ آپ تب کروپ ہوے پرماتما، آپ جھگڑا چلے ہرمندر میں آن تبھی ایک خالصہ پرگٹ ہوے ، قلعہ بنا دے ہر مندر صاحب کو آن راج چلیسی رنڈی کا فوج چڑھے ہر مندر میں آن اتنا خون بہاوے، گھوڑے کا کھر خون میں بھج جاوے، ماجھا، مالوہ ، دوابہ بس دکھی ہون دیہات تبھی خالصہ ” اٹاری “ میں سے چڑھ آوے ، امرتسر پہنچ اتنا خون بہاوے، ڈھائی لاکھ خالصہ شہید ہووے سترہ لاکھ ہندو مر جاوے تبھی ، روس ، چین ہند میں چڑھ آوے، تبھی تخت دہلی پر بہہ جاوے گرو کی فوج ، بڑی کرے گی موج۔ “ ننگا بھوکا کوئی نہ رہوے ، لنگر گرو کا کھاوے ، واہ گروہ جی کا خالصہ ، واہ گرو جی کی فتح “

(ترجمہ :سکھ پنتھ اور قوم پر مصیبت کا ایسا وقت آئے گا جب در بار صاحب امرتسر کا مقدس تالاب سکھوں کے خون سے اتنا تربتر ہو گا کہ گھوڑے کے سم اس لہو میں ڈوب جائیں گے۔ اس وقت ایک تریا ( چالاک عورت ) کا راج ہو گا لیکن یہ آزمائش سکھوں کے لئے وقتی ہو گی حتمی اور فیصلہ کن مستقبل سکھوں کا ہی ہو گا تب پڑوسی مذہبی سکھوں کی مدد کریں گے اور نتیجتاً خالصہ راج دہلی میں قائم ہو جائے گا “

سکھ پنجاب کی دھرتی کی شان ہیں۔ یہ قوم ، محنت کش ، سادہ ، محبت کرنے والی ، با ہمت اور با غیرت قوم ہےجو حق کی خاطر کھڑی ہو جانے کی وجہ سے مشہور ہے مگر بد قسمتی سے یہی قوم آج اپنی ہی دھرتی میں اپنے ہی حق کے لیئے لڑنے کے لیئے مجبور کر دی گئی ہے
مسلمان اور سکھ دونوں خدائے یکتا کی عبادت کرتے ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف لاکھوں خداﺅں کے
پجاری ہندو پچھلے ستر سال سے انہیں محکوم بنائے ہوئے ہیں۔
ہندوستان کی قل آبادی کا دو فیصد سکھوں پر مشتمل ہے۔۔ ان کی سادگی دیکھئے کہ جو ملک ان کا پچھلے اکہترسال سے معاشی ، سماجی اور مذہبی استحصال کر رہا ہے۔۔ اُسی ملک کا دفاع اُن کے بغیر ممکن نہیں۔۔ بھارتی فوج کا بیس فیصد سکھوں پر مشتمل ہے۔۔۔
پاک بھارت تنازعات ہوں ، یا بھارت چین لڑائی ، کشمیر سے لے کر شمال مشرقی بھارت ۔۔بھارتی سرکار جب مصیبت میں پڑتی ہے تو گولی کھانے کے لیئے انہی دلیر سکھوں کو آگے کر دیتی ہے۔۔۔
سکھوں کی ان تمام قربانیوں کے باوجود ۔۔ ۔ آج بھارت نے پنجاب کے حالات پر مکمل میڈیا بلیک آوٹ کر رکھا ہے۔ سکھ نوجوانون کو آزادی کی چاہت سے دور رکھنے کے لئے اُنہیں نشے پر لگا دیا گیا ہے اور اس نشے کے کاروبار کو بھارتی سنٹرل حکومت کا آشیرباد حاصل ہے جو ہیروین اور دیگر منشیات سمگلرز کی سہولت کار بنتی ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق آج بھارتی پنجاب کی75فیصد نوجوان نشے کی لت میں گرفتار ہیں۔۔۔
ہندوانتہاپسندتنظیم آرایس ایس سکھوں کوزبردستی ہندو بنانے کی کوششین کر رہی ہے۔ گردواروں میں بھارتی حکومت نے اپنے ہرکارے بٹھائے ہوئے ہیں اور بھارتی حمایت یافتہ ٹاﺅٹ سکھ دھرم میں ملاوٹ کی کوششین کر رہے ہیں۔۔۔
آج کا سکھ خود کو بھارت میں غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔۔۔ بھارتی سرکار کی طرف سے حمایت یافتہ ہندو تواءکے غنڈوں کی طرف سے گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔۔۔ بی جے پی اور کانگرس دونوں جماعتوں کا فوکس سکھوں کو متحد ہونے سے روکنا اور ان کا
استحصال کرنا ہے۔۔۔ سکھوں کے مذہب میں فتنہ ڈالنے کے لیئے سرکاری سطح پر اقلیتی فرکے کو اکثریت پر ترجیع دی جا رہی ہے جبکہ اکثریت کی ہر قدم پر تزلیل کی جا رہی ہے۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ وہ آگ جسے بھارت نے اپنی طرف سے1990کی دھائی میں بجھا دیا تھا۔۔۔ آج پھر آگ بنتی جا رہی ہے۔۔۔

خالصتان ، خالص لوگوں کا وطن۔۔ ۔ جس کی پیشینگوئی سکھ دھرم کے 10وین گرو شری گرو گوبند سنگھ جی نے آج سے تقریباً پانچ سو سال پہلے کی۔۔۔ آج حقیقت کا روپ دھار رہی ہے۔۔۔ ست گرو گوبند جی کی پیشنگوئی کے مطابق 1984میں بھارتی سرکار نے گروہرمندر صاحب پر حملہ کیا جس میں سینکروں سکھ مرد ، بچے بوڑھے بے دردی سے قتل ہوئے۔۔ جس کے بعد اکتوبر 1984میں ہرمندر صاحب کی بھارتی فوج کی جانب سے بے حرمتی کا بدلہ اندرا گاندھی کے سکھ باڈی گارڈز نے اُسے قتل کر کے لیا۔۔۔ اندرا کے قتل کی خبر پھیلتے ہی انتہا پسند اور مہا بھارت کے خواب دیکھنے والوں نے سکھوں پر حملے شروع کر دیئے۔۔ جس کی وجہ سے صرف دو دن میں8ہزار سکھ انتہائی بے دردی سے قتل کر دیئے گئے۔۔
آج خالصتان کی تحریک ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔۔۔دو ہزار پندرہ میں بھارتی شہر گروداس پور حملوں نے ایک بار پھر ایک نئی اور پہلے سے زیادہ فعال خالصتان تحریک کی بنیاد رکھیاس حملے کا اصل مقصد . ایک تراسی سالہ بابا صورت سنگھ کی بھارتی جیلوں میں سکھ قیدیوں کا رہائی کے مطالبے میں کی گئی بھوک ہڑتال تھی جو ناحق بھارتی مظالم کا شکار بنے ہوئے تھے ۔۔۔ ان بے گناہ سیاسی قیدیوں کے حق میں تحریک ملک گیر تحریک بنتی جا رہی تھی جسے روکنے کے لیئے گروداس پور حملے کا ڈرامہ رچایا گیا
لیکن بھارتی سرکار کی سوچ کے برعکس بابا صورت سنگھ کا احتجاج ملک گیر مدعا بن گیا جس نے پورے ملک میں آباد سکھ قوم کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا

خالصتان تحریک کی تاریخ کا سب سے بڑا سکھ اجتماع نومبر 2015 کو امرتسر میں ہوا، جس میں لاکھوں کی تعداد میں سکھوں نے شرکت کی. اس میں تیرہ مطالبات پیش کیے گئے، جن میں تا حال منظور نہ ہونے والی آنند پور قراداد کی منظور کا مطالبہ کیا گیا. اس اجتماع میں جسے سکھ سربت خالصہ کہتے ہیں مطالبہ کیا گیا تھا کہ، میں گولڈن ٹیمپل کمپلکس کو ویٹی کن سٹی کے مثل درجہ دیا جائے. مزید پوری دنیا میں موجود سکھوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک سکھ پارلیمنٹ کے قیام جیسے اہم مطالبات شامل تھے.
گزشتہ برس 6 جون 2017 ء کو گولڈن ٹیمپل میں منعقد ہونے والے بھارتی فوجی حملے کی 33ویں برسی کے موقع پر سر عام اسٹیج سے ”آزاد خالصتان “ کے نعرے لگائے گئے۔
حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان کی حلف کی تقریب پر آئے نجوت سنگھ سدھو کے خلاف بھارتی انتہا پسندوں کے رد عمل کے خلاف امرتسر میں ہزارون سکھ سرکون پر نکل آئے اور پاکستان زندہ باد اور سکھ حقوق کے خلاف نعرے لگائے لگائے۔۔
سکھوں پر مظالم کا سلسلہ آج بھی چل رہا ہے۔۔ بھارتی پنجاب میں سکھ ہونا آج بھی سرکار کے لیئے شکوک و شہبات کے لیئے کافی ہے۔۔۔ درجنوں جوان آج بھی پولیس اور دیگر ایجنسیوں کی طرف سے اُٹھائے جا رہے ہیں۔۔۔ مذہبی آزادی کی انتہا یہ ہے کہ متعدد بار سکھوں کو اپنے گرودوروں کے درشن کے لیئے بغیر کسی وجہ روک دیا گیا۔۔۔
بھارت تحریک خالصتان کا الزام آج بھی پاکستان پر لگاتا ہے مگر کشمیر کی طرح پنجاب میں بھی اپنی متعصب پالیسیوں کی تبدیلی کی بات نہیں کرتا۔۔۔خالصتان تحریک بھارت کے لیئے ڈرونہ خواب بنتی جا رہی ہے۔۔۔ بھارت جانتا ہے کہ خالصتان بننے کا مطلب مقبوضہ کشمیر کی آزادی ہے۔۔۔ سکھ اور مسلمان کشمیری بھارت سے آزادی چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کی اخلاقی حمایت کر رہے ہیں۔۔۔

اگر 2020میں سکھ قوم خالصتان کے حق میں فیصلہ کر دیتی ہے تو پھر بھارت کی تباہی پر مہر لگ جائے گی اور اکھنڈ بھارت کا خواب ہمیشہ کے لیئے چکنا چور ہو جائے گا۔۔۔
اب تو خود بھارتی میڈیا اب خالصتان تحریک میں تیزی کا اقرار کرنے لگ گیا ہے۔۔ انڈیا ٹو ڈے کی 19جون2017کی رپورٹ کے مطابق 2015سے خالصتانی حریت پسندوں کی جانب سےکاروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو ہر سال بڑھ رہا ہے۔۔ صرف 2017 میں جون کے مہینے تک 23حریت پسند سیکیورٹی ایجنسیون کے ساتھ جعلی مقابلوں میں مارے گئے۔۔ جبکہ کتنے غائب ہوئے اس کا کوئی ریکارڈ نہیں۔۔۔ اس بار پڑھے لکھے اور خصوصاً سابق بھارتی افسران کے بچے بھی اس تحریک کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔۔۔ اور میگزین کے مطابق اس تحریک کو پنجاب کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔۔۔
اس بار ان حریت پسندوں کا ٹاگٹ سیکیورٹی فورسز ،انفراسٹیکچر ، سیاست دانوں ، سرکاری عہدے داروں کے علاوہ شیو سینا اور ہندو تواء کے وہ شدت پسند بھی ہیں جنہیں خاص مقصد کے تحت سکھوں کو ہندو بنانے کے مشن پر بھیجا گیا ہے۔۔۔

Comments
Loading...