بے روزگاری ایک زحمت!

بے روزگاری، انسان کی اس حالت کو کہتے ہیں جب اسے روزگار میثر نہ ہوبے روزگاری کی وجوہات، نتائج اور حل کے بارے میں کافی بحث ہوتی رہتی ہے اور دیگر نظریات اختیار کیے جاتے رہے…

بیںروزگار ہونے کے ساتھ ساتھ ماہانہ اچھی آمدن کا ہونا بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہے اور ایسی نعمت کا حصول ہر انسان کی خواہش ہے تاکہ وہ اپنے خاندان سمیت بہترین سہولیات کے ساتھ زندگی بسر کر سکے…

اور یہی نہیں بلکہ دوسروں کے مشکل وقت میں کام بھی آ سکے. پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے اسے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔جن میں سے زیادہ تر مسائل ہمارے اپنے ہی پیدا کردہ ہیں۔پاکستان 14اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر معر ض ِ وجود میں آیا…

ور آج اکیسویں صدی میں بھی بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے۔جن میں ایک بے روزگاری اہم مسئلہ ہے…

کم ترین اجرت کے قوانین، ٹیکسوں اور دیگر قواعد و ضوابط کے خلاف ہیں کیونکہ انکا دعوی ہے کہ ان سب چیزوں سے لوگوں کو کام دلانے میں دشواری ہوتی ہے…

ے روزگاری ایک سماجی برائی تصور کی جاتی ہے۔جس سے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں..

اس سے فاقہ کشی کی نوبت آجاتی ہے بیماری پھیلتی ہے اور نوبت موت تک پہنچ جاتی ہے…

یہ معاشی زہر سارے معاشرے میں پھیل جاتا ہے۔بے روزگاری قانون کا احترام کرنے والے شہریوں کو بھی مجرم اور ڈاکو بنا دیتی ہے جس سے بدعنوانی پھیلتی ہے اور جھوٹ بڑ ھتا ہے….

عمران خان نے پیراشوٹ امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر کے نظریاتی کارکنوں کی توہیں کی …

سابق وزیر اعلیٰ نے صوبے کو اربوں روپے کا مقروض کر دیا ، کوئی منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا اس وقت غیر قانونی طور پر 500 ارب ڈالر کے اثاثہ جات غیر ملکی بینکوں میں پڑے ہیں…

اس کے علاوہ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل رپورٹ 2010ء کے مطابق سالانہ تقریباً 1000ارب روپے کی کرپشن پاکستان میں ہوتی ہے۔ملک میں ہر معاملے میں کرپشن کا سہارا لیا جا تا ہے۔جس کی وجہ سے حق دار کو اس کاحق نہیں ملتا…

اگر غیر ملکی بینکوں سے یہ پیسہ واپس پاکستان لایا جائے تو ان پیسوں کی مدد سے پاکستان کے ذمے 60 ار ب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ یر ممالک سے اشیاء درآمد کرنے پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگایا جائے…

صرف ضروری اشیاء کی درآمد پر اجازت دی جائے مثلاً مشینری ،کیمیکلز،فنی و طبی آلات،کتب اور جدید سائنسی سامان وغیرہ۔ اشیائے صرف اور غیر ضروری چیزیں منگوانے پر پابندی لگا دی جائے ملکی صنعت کو ترقی دینے کا یہ سب سے بڑا طریقہ ہے۔زیادہ سے زیادہ اشیاء ملک میں بنیں اور لوگوں میں جذبہ حب الوطنی کو بیدار کیا جائے …

ملک میں صدارتی نظام ہونا چاہیے تاکہ حکومتی اراکین کی تعداد مختصر اور قابل افراد پر مشتمل ہو۔تاکہ حکومت کے ذاتی اخراجات کم ہو سکیں اور عام آدمی کو بھی کوئی فائدہ پہنچ سکے…

Comments
Loading...