ہندو لڑکیوں کے اغوا کا ڈرامہ فلاپ،مرضی سے اسلام قبول کر کے نکاح کر لیا

بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر فواد چودھری کا دوٹوک جواب،بھارت اقلیتوں کے حقوق پر دھیان دے

ڈہرکی سے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے ہندو لڑکیوں نے قبول اسلام کے بعد نکاح کرلیا ہے جبکہ دونوں ہندو لڑکیوں کا اعترافی بیان سامنے آگیا جس میں انہوں نے کہاہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا۔دونوں لڑکیوں کے والدین نے اغوا کی درخواست دی تھی کہ ان کی بیٹیوں کو اغوا کیا گیا ہے ۔بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے بیان پر پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے انہیں کھرا جواب دیا۔
باغی ٹی وی کے مطابق دونوں لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر خوش اور مطمئن ہیں اور ان کے ساتھ کسی نے زبردستی نہیں کی۔ روینا اور رینا نے قبول اسلام کے بعد نکاح کئے تھے، لڑکیوں نے تحفظ کے لئے عدالت عالیہ سے بھی رجوع کررکھا ہے۔مسلمان ہونے والی روینا کا نام آسیہ بی بی رینا کا شازیہ رکھا گیا ہے۔ روینا کا نکاح صفدر جبکہ رینا کا برکت سے ہوا ہے۔

ضلع رحیم یارخان کی تحصیل خان پور میں علامہ قاری بشیر احمد نے نو مسلم لڑکیوں کا نکاح پڑھوایا تھا۔ نکاح اور قبول اسلام کی تقریب میں سنی تحریک پنجاب کے جنرل سیکرٹری جواد حسن گل بھی شریک ہوئے تھے۔پولیس نے جود حسن گل کو گزشتہ شب گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔منظر عام پر آنے کے بعد دونوں لڑکیوں نے لاہور ہائیکورٹ میں تحفظ کی درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے، دوسری جانب پولیس نے ایک شخص کو بھی گرفتار کرلیا ہے جس نے لڑکیوں کے نکاح میں ان کی مدد کی تھی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ونوں لڑکیوں کے بارے میں ان کے والدین نے درخواست دی تھی کہ دونوں لڑکیوں کو اغوا کر کے لے جایا گیا ہے اور انہیں بازیاب کروایا جائے۔ علاقہ پولیس نے بتایا تھا کہ 22مارچ کو لڑکیوں نے خود منظرعام پڑ آ کر اسلام قبول کرنے کا اعتراف کیا تھا۔لیکن لڑکیوں کے والدین کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کو اغوا کیا گیا ہے اور پولیس ان کی دادرسی نہیں کر رہی جس پر وزیراعظم عمران خان نے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ دونوں لڑکیوں کو بازیاب کروایا جائے اور اس کے لیے دونوں صوبوں کی انتظامیہ مل کر حکمت عملی ترتیب دے۔

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی ٹویٹ کی تھی کہ ہندو لڑکیوں کے اغوا کے حوالے سے پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر سے رپورٹ طلب کی ہے جس پر پاکستانی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے انہیں جواب دیا تھا کہ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے اس لیے آپ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق پر دھیان دیں ہمیں اپنی اقلیتوں سے بھی اتنا ہی پیار ہے جتنا مسلمانوں سے ہے۔ اب یہ معاملہ حل ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ دونوں لاپتہ بہنوں نے بہاولپور کی عدالت میں تحفظ کی درخواست دی ہے کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

Comments
Loading...