ہمیں بیٹھ کر بات چیت سے اپنے مسلے حل کرنے چاہیے، وزیراعظم عمران خان کی پریس کانفرنس

جس طرح سے ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ ہندوستان نے سوموار کی رات پاکستان کی Loc کو کراس کرنے کی کوشش کی اور پاکستان کو حملے کا Target بنایا۔۔۔

اگر آپ نے بعض بھارتی ذرائع ابلاغ کو منگل کے ابتدائی گھنٹوں میں پیروی کیا تو، شاید آپ نے سنا ہے کہ بھارتی ایئر فورس نے پاکستانی ہوائی جہاز میں جھک کر عسکریت پسندوں کیمپوں پر تباہ کن حملوں کا آغاز کیا اور تقریبا 300 جنگجوؤں کو قتل کیا۔۔

اگر آپ پاکستان میں دیکھ رہے تھے تو، آپ نے ایک غصے کی بغاوت کی خبر دیکھی جس میں بھارتی جنگجوؤں نے غیر آباد شدہ دیہی علاقوں میں اپنے پے بوجھ کو گرا دیا اور پھر گھر سے گرا دیا، جنگل کے خالی حصے کے لئے کوئی بھی نقصان نہیں بچا۔۔۔

اسی صورت حال میں وزیراعظم عمران خان نے پریس کانفرنس میں شرکت کی اور ہندوستان کو بھی مخاطب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ :

“کل صبح سے جو Situation بنتا جا رہا ہے میں یہ چاہتا تھا کہ آپکو اعتماد میں لوں۔۔۔

یہاں دس سال سے تقریبا 70 ہزار casualties ہوئی ہیں اور میں دس سال سے کتنے ہسپتالوں میں گیا ہوں اور میں نے لوگوں کو دیکھا ہے Bomb blast victims، جن کے بازوں نہیں ہیں، ٹانگیں نہیں ہے، چل نہیں سکتے، آنکھیں نہیں ہیں۔۔ اسلئے مجھے پتہ ہے کہ جو اس دنیا سے چلے گئے ان کے گھر والوں پہ کیا گزرتی ہے۔۔۔۔”

جس طرح سے آج دو طیاروں کو پاکستان فوج نے مار گرایا اور فوجی ترجمان نے کہا کہ دو بھارتی پائلٹوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ایک کے ساتھ اور ایک ہسپتال میں۔۔

اس کے فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ

“جنگ کی طرف جانے کے لئے نہیں جانا چاہتا ہے”،

اس کے فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد نے اس وقت گھنٹے کے دوران دو بھارتی جنگی جہازوں کو اپنے ہوائی اڈے پر گولی مار دی اور پڑوسیوں کے درمیان بھرپور تنازعہ کے خدشات کو نظر انداز کیا۔۔۔

میجر جنرل آصف غفور نے ریلیزیڈی شہر کے راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا :

“کہ ہم اضافہ نہیں چاہتے ہیں، ہم جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے ہیں. نئی دہلی سے بات چیت کرتے ہوئے”۔۔

مزید وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ:

“اس لئے ہم نے سیدھا سیدھا ہندوستان کو Offer کیا کہ کسی طرح کی بھی آپ Investigation چاہتے ہیں اگر اس میں کوئی بھی پاکستانی ملوس ہے تو پاکستان پوری طرح تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔۔۔”

“اس میں تو کوئی Dispute تھی ہی نہیں ہم جب پوری طرح تعاون کرنے کے لئے تیار تھے تو مجھے یہ خدشہ تھا کہ ہندوستان نے اس کے باوجود کوئی Action لینا ہے۔۔”

“اسی لئے میں نے ان سے کہا کہ ہماری مجبوری ہو گی Respond کرنا۔۔کیوں کہ کوئی ملک کسی ملک کو اجازت نہیں دیتا کی کاروائی کرے اور خود ہی فیصلہ کر لے کہ اس نے جرم کیا ہے۔۔ Judge اور Jury خود ہی بن جائیں۔۔۔۔”

“صبح ہماری بات ہوئی، Army Chief کی، Air Chief کی اور ہم کوئی Casualty نہیں کرتے جبکہ ہماری کوئی Casualty نہیں ہوئی تھی، ہم نے انتظار کیا اور Action لیا۔۔۔”

“ہمارا پہلے سے پلان تھا کہ کوئی Colletral Damage نہ ہو، کوئی Casualties نہ ہوں صرف ہم یہ بتائیں ہندوستان کو کہ ہم میں Capacity ہے، کہ اگر آپ ہمارے ملک میں آ سکتے ہیں تو ہم بھی آپ کے ملک میں آ کر کاروائی کر سکتے ہیں۔۔۔۔”

“ہندوستان نے پاکستان کی Retaliation میں بارڈر کراس کیا، ان کو shoot down کیا گیا۔۔”

“اب میں ہندوستان سے مخاطب ہوں کہ یہ بہت ضروری ہے کہ یہاں ہم تھوڑی سی عقل اور حکمت استعمال کریں۔۔جتنی بھی دنیا میں جنگیں ہوئیں ہیں ان سب میں Miss calculation ہوئی ہے۔۔۔”

1st World War مہینوں میں ختم ہونی تھی چھ سال” لگ گئے، ہٹلر نے سوچا کہ میں روس کو فتح کر لوں، اس نے یہ ہی نہیں سوچا تھا کہ روس کی سردیوں تک شاید “Delay ہوجائے۔۔اور روس کی تباہی ہوئی وہاں۔۔

“اسی طرح War Of Terror میں کیا امریکا نے سوچا تھا کہ 17 سال تک افغانستان میں پھنسے رہیں گے۔۔۔”

وزیراعظم نے ہندوستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ :

“میرا یہ سوال ہے ہندوستان سے کہ کیا جو ہتھیار آپ کے پاس ہیں اور جو ہمارے پاس ہیں تو کیا ہم Miss calculation افورڈ کر سکتے ہیں۔۔”

“اس لئے میں پھر سے آپکو دعوت دیتا ہوں کہ، آپکی Palwama Tragedy میں جو آپکو دکھ پہنچا کسی قسم کا ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں ہم تیار ہیں۔۔”

کانفرنس کے آخر میں وزیراعظم نے ایک پیغام دیا کہ ہمیں عقل و فہم کا استعمال کرتے ہوئے ان حالات کا سامنا کرنا چاہیے۔۔۔

“Better Sense Should Prevail۔۔ Prime Minister Imran Khan”

Comments
Loading...