ہماری سیاست کا مقصداسلام کی سربلندی،کشمیر کی آزادی ،تکمیل پاکستان ہے .صدر مسلم کانفرنس

جوڑ توڑ اور سازشوں کے ذریعے حصول اقتدار کی سیاست کو جائز نہیں سمجھتا.سردار عتیق احمد خان
کوٹلی(نمائندہ باغی ٹی وی)آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے صدر وسابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے ہماری سیاست کا مقصد اسلام کی سربلندی ،جموں وکشمیر کی آزادی اور پاکستان کی تکمیل ہے۔جوڑ توڑ اور سازشوں کے ذریعے حصول اقتدار کی سیاست کو جائز نہیں سمجھتا۔آزادحکومت کا حالیہ سیاسی بحران نواز لیگ کا اندرونی جماعتی معاملہ ہے۔ مسلم کانفرنس چھوڑ کر جانے والے ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔وہ گزشتہ روز ضلع میر پور ڈڈیال سے مسلم کانفرنس کے ضلعی آرگنائزر چوہدری ظہور الہیٰ کی قیادت میں دیگر جماعتیں چھوڑ کر مسلم کانفرنس میں شمولیت کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ ہمارا نواز لیگ یا پیپلزپارٹی سمیت کسی بھی دوسری جماعت کے کارکن ذاتی یا شخصی ناراضگی نہیں بلکہ سیاسی اختلافات رائے ہے۔جو جماعتوں کے اندر بھی موجود ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تیرہویں ترمیم اور عدالتی بحران پر مسلم کانفرنس کا موقف پہلے دن سے روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ خود مختار کشمیر کے نام پر پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف بیان بازی کرنے والے لبریشن فرنٹ کو کمزور کرنے کی سازش کررہے ہیں۔خود مختار کشمیر کے نام پر پاکستان اور افواج پاکستان کو بدنام کرنے والے بعض عناصر جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے خلاف سازش کررہے ہیں۔یہ لوگ درحقیقت لبریشن فرنٹ کو کمزور کررہے ہیں لبریشن فرنٹ اور خود مختار کشمیر کے نظریے کے لوگوں سے اختلافات کے باوجود یہ بات ماننا پڑتی ہے کہ تحریک آزادی میں ان لوگوں نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ان قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یاسین ملک کا تحریک آزادی میں کردار مسلمہ ہے۔انہوں نے کہا اگر آزادکشمیر میںمجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان اور امان اللہ خان ہر سال چوہدری غلام عباس کی برسی پر اکٹھے ہوکر بیٹھ سکتے ہیں اور کشمیر لبریشن الائنس پر اکٹھے ہوکر کام کرسکتے ہیں اور زندگی بھر ایک دوسرے کا احترام کرسکتے ہیں اور اگر مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق ،یاسین ملک اکھٹے مل کر ایک ساتھ کھڑے ہوکر تحریک آزادی کشمیر کے محاذ پر کامیابی سے اپنے فرائض انجام دے سکتے ہیں ۔اگر اہندوستانی فوج کے سامنے آٹھ لاکھ ہندوستانی فوجیوں کی موجودگی میں مسلمہ قائد یاسین ملک پاکستان کا پرچم ہاتھ میںلے کر ہندوستان کی مخالفت کرسکتے ہیں تو یہاں خود مختار کشمیر کے نام پر اور پاکستان کے خلاف توہین آمیز زبان،افواج پاکستان کے خلاف گفتگو کا کسی کے پاس کوئی جواز نہیں۔مجھے تو کچھ لوگ لبریشن فرنٹ کے خلاف اور یاسین ملک کے خلاف سازش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ لبریشن فرنٹ کی قیادت کو چاہیے کہ ایسے عناصر پر نظر رکھیں اوران کے بارے میں جماعتی طورپر جس نظم ونسق کی ضرورت ہو اس کا مظاہرہ کیا جائے اس کا نوٹس لیا جائے۔خود مختار کشمیر کے نام پر بے شمار لوگوں نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے قربانیاں دی ہیں۔اپنی جانیں نچھاور کیں اور ڈاکٹر گورو سے لے کر شہید اشفاق مجید وانی تک لبریشن فرنٹ نے بھرپور کردار اداکیا۔اس کردار کو مسخ کرنے کے لیے اور اس کو کمزور کرنے کے لیے بعض لوگ ایک طرف خود مختار کشمیر کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ان مقاصد کی نفی کرتے ہیں جس کے لیے مقبوضہ کشمیر میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں نے قربانیاں دی ہیں۔قرارداد الحاق پاکستان کو تحریک آزادی کشمیر میں میگا کارٹا کی حیثیت حاصل ہے۔

Comments
Loading...