گوگل نے صارفین کے ان باکس تک رسائی دینے کا اعتراف کرلیا

جس طرح سے ہم سب جدید ٹیکنالوجی کے دور میں رہتے ہیں اور یہ بھی کہ آج کے دور میں موجود موبائل اور انٹرنیٹ ہماری زندگیوں کا اہم ترین حصہ بن چکے ہیں۔۔۔جن کے بغیر ہمارے لئے Survive کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔۔ البتہ ہم لوگ ان جدید آلات اپنی زندگیوں میں آسانیاں تو پیدا کرتے ہی ہیں۔۔ساتھ ہی ساتھ ان کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہمارے لئے باعث پریشانی بھی بنتا ہے۔۔۔

کیلیفورنیا میں دنیا کے سب سے مقبول سرچ انجن ‘گوگل’ نے صارفین کے تھرڈ پارٹیز کمپنیوں کو ان باکس تک رسائی دینے کا اعتراف کرلیا۔

گوگل نے اس بات کی تصدیق امریکی قانون دانوں کو لکھے گئے ایک خط میں کی ہے جس میں گوگل نے وضاحت کی ہے کہ تھرڈ پارٹی ڈیولپرز جی میل اکاؤنٹس تک رسائی اور شئیرنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

گوگل پالیسی چیف سوسان مولیناری کی جانب سے لکھے گئے خط میں اعتراف کیا گیا ہے کہ 100 سے زائد ایپلی کیشنز جی میل اکاؤنٹس کے اِن باکس کا ڈیٹا اسکین اور شئیر کرسکتی ہیں اور ایسا اس صورت میں ممکن ہو سکے گا جب ڈیولپرز صارف کا ڈیٹا کمپنیوں سے شیئر کریں گے۔

دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد گوگل کی جی میل سروس استعمال کرتے ہیں اور صارفین کا ڈیٹا تھرڈ پارٹی سے شیئر کرنے پر صارفین نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف ایپلی کیپش بنانے والے ڈویلپرز ہی جی میل صارفین کی ای میلز نہیں دیکھ سکیں گے بلکہ دیگر کمپنیوں کو بھی رسائی حاصل ہوگی۔

گوگل کے پالیسی چیف نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پرائیویسی پالیسی صارفین کے لیے قابل رسائی ہے کہ وہ اس پر نظرثانی کرسکیں اور گلوگل کی جانب سے ڈیٹا شیئر کرنے سے قبل صارفین کو اس کی اجازت دینا ہوگی۔

Comments
Loading...