گورنمنٹ ہائی اسکول دوڑ میں کرپشن کا انکشاف

شہید بے نظیر آباد تحصیل دوڑ کے
گورنمنٽ ہائی اسڪول دوڑ کا استاد دوست محمد گورچانی خود پر لگے الزامات اور تعلیم کھاتہ دوڑ میں ہونے والی مبینہ کرپشن کے خلاف نیشنل پریس کلب نوابشاہ پہنچ گیا . استاد دوست محمد گورچانی نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گورنمنٽ ہائیئر سیکنڈری اسڪول دوڑ کے پرنسپل اياز ابڑو نے کرپشن کے تمام ريکارڊ توڑ دیے ہیں اياز ابڑو سال 2013 میں اين ٽی ايس اداری کا ميمبر تھا جس نے اپنے بھائی محمد سومر ابڑو جو اس وقت دبئی گیا ہوا تھا اياز ابڑو نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے اپنے بھائی کی جگہ کسی اور ایجنٹ کے ذریعے این ٹی ایس امتحان دلا کر اپنے بھائی کو پاس کرواکر نوکری دلائی اگر اياز ابڑو کے بھائی محمد سومر کا ويزا اور پاسپورٽ چيک کیا جائے تو یہ پول کھل جائے گا اور اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ اياز ابڑو کرپشن کا بادشاھ اور فراڈ کرنے کا بھی ماہر ہے. اس وقت جعلی بھرتی شدہ سومر ابڑو شناختی کارڊ نمبر 4540202471425 اور پرسنل نمبر 10834172 پر تنخواہ لے رہا ہے اسکی چھان بین کر کے کاروائی کی جائے . انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے مزید کہا کہ استادوں کی ٹريننگ کی مد میں کروڑوں کا فراڈ بھی کیا گیا ہے اور کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے ہیں اس کے مسٹرول اور بل چیک کیے جائیں تو کرپشن صاف ظاہر ہوجائے گی اور اس کا مرکزی کردار سکندر رند ہے جس کو اسکول میں ایاز ابڑو کی اے ٹی ایم مشین کے نام سے جانا جاتا ہے

دوست محمد گورچانی نے مزید کہا کہ دوڑ ہائیئر سیکنڈری اسکول میں ایک مافیا سرگرم ہے جس نے امتحان کے دوران رشوت کا بازار گرم کیا اور ہر پیپر میں ٹیم کی طرف سے کاپی کیس بھی ہوتے رہے جبکہ اکثر پیپروں میں امیدواروں کی بجائے ان کے ایجنٹوں نے پیپر دیے اور دسویں کلاس کے سیٹ نمبر 148036 نمبر 59846 کے پيپر مختلف اوطاقوں میں لیے گئے ہیں اگر امیدوار اور پیپر کی لکھائی چیک کی جائے تو واضح ہوجائے گا . اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ايکسٹرنل اور انٹرنل نے بے بنیاد الزامات لگائے ہیں استاد دوست محمد گورچانی نے ڈپٹی کمشنر شهيد بينظيرآباد ابرار احمد جعفر ،کمشنر شھيد بينظير آباد، ڈسٹرکٹ ايجوکيشن آفيسر شھيد بينظير آباد ، وزير تعليم، وزير اعلی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ملوث افراد کے خلاف کاروائی کر کے انصاف کیا جائے

Comments
Loading...