عرب اسپرنگ اور سیاسی انجینئرنگ

کیسے سیاسی انجینئرنگ کی گئی۔۔۔

عرب اسپرنگ کو شرق وسطٰی کی نئی سیاسی انجینئرنگ میں ایک سنگ میل کہا جا سکتا ہے۔۔ کیونکہ اس نے مشرف وسطٰی کے آ ڈر میں تبدیلی میں اہم اور قلیدی قردار ادا کیا۔۔۔ یہ ایک
plannedاور engineered
انقلابی لہر تھی۔۔۔ جی ہاں عرب اسپرنگ وہ نہیں جو اسے سمجھا گیا بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایک
planned move
تھی جس کا مقصد انقلاب کے دھانے پر کھڑے عرب ممالک کو
depressurize
کرنا اور سیاسی آ ڈر کو بچانا تھا۔۔۔
اگر عرب سپرنگ کا ڈرامہ نا رچایا جاتا تو شاید عوامی طاقتین غالب آ جاتین اور
Targeted
خطے ہاتھ سے نکل جاتے۔۔
جی ہاں اس عرب اسپرنگ کے کچھ ٹارگٹٹڈ ممالک تھے ۔۔جیسے تیونس ، مصر ، شام ، بحرین اور لبیا۔۔ ان ممالک میں اس عرب اسپرنگ نے سٹیٹس کو یا تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حق میں
Tilt
کر دیا یا پھر اتحادی سیاسی طاقتوں کو کچھ اور وقت دے دیا۔۔
بنیادی تور پر ایک پریشر کُکر کی مثال سے عرب اسپرنگ کو سمجھا جا سکتا ہے۔۔۔ جیسے ویٹ کی وجہ سے آہستہ آہستہ کُکر کے اندر کا پریشر نکلتا رہا اور اگر اس پریشر کو نکلنے سے روک دیا جائے  تو کُکر پھٹ جائے اسی طرح عرب اسپرنگ میں ہوا۔۔۔ مصر میں حسنی مبارک کی آمریت  مصر کو انقلاب کے دھانے پر لے آئی تھی ۔۔ جسے سیسی کے ذریعے مبارک حکومت کو معزول کرنے اور مرسی اور اخوان کو کچھ عرصے کے لیئے حکومت دے کر
depressurize
کر دیا گیا اورعوامی
momentum
کے ٹھنڈا پرتے ہی ۔۔ جنرل عبد الفتح السیسی کے ذریعے دوبارہ پُرانا سیاسی آڈر واپس لے آیا گیا۔۔۔
اسی طرح لبیا میں گو معمر قزافی کے مغرب سے تعلقات بہتر ہو رہے تھے لیکن پھر بھی عرب اسپرنگ کی آڑ میں القاعدہ اور داعش کے جنگجوﺅں کو استعمال کرتے ہوئے قذافی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔۔ اس تمام معاملے میں مزیدار بات یہ ہوئی کہ ابھی جنگ شروع ہی ہوئی تھی کہ مغربی آئیل کمپنیوں نے لبیا کی زمین سے تیل نکالنا شروع کر دیا۔۔
دوسری طرف بحرین کی عوام جب حکومت کے خلاف نکلی تو بحرینی حکومت اورجی سی سی ممالک کو امریکہ اور اتحادیوں نے عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کی کھلی چھوٹ دے دی جس کی وجہ اس سیاسی آڈر کو بچانے کی امریکی پالیسی تھی کیونکہ امریکہ کی
U.S. Naval Forces Central Command
بحرین میں ہیڈکوارٹر رکھتی ہے۔۔ اس ملک میں سیاسی آڈر کی تبدیلی کا مطلب ایران کے رسوخ میں اضافہ تھا جسے بزور جبر کچل دیا گیا۔۔۔
اسی طرح سعودی عرب ، اردن ، کویت جیسے ممالک میں ہمیں عرب اسپرنگ کی کوئی خاص
Activity
نظر نہیں آئی جس کی وجہ عرب اسپرنگ کے پیچھے طاقتوں کی ان ممالک سے اچھے سٹریٹیجک تعلقات ہیں۔۔
ایرنی عرب صوبے خوزستان ، فلسطینی علاقوں میں اس عرب اسپرنگ کو کچل دیا گیا کیونکہ عوامی امنگوں کی ان تحریکوں میں  بھی کسی عالمی طاقت کا مفاد نہیں تھا۔۔
عرب اسپرنگ کا سب سے زیادہ اثر شام پر پڑا جہاں
1970-80
کی دھائیوں میں حکومت مخالف بغاوت کے بعد پہلی بار دوبارہ بغاوت کا آغاز ہوا۔۔ اس بار اس عوامی بغاوت میں شدت کی بڑی وجہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اس عوامی بغاوت کی ہمایت تھی۔۔۔ امریکہ فری سرین آرمی کو جبکہ اس کے عرب اتحادی انصرة سمیت القاعدہ اور دیگر شدت پسند قوتوں کو سپورٹ کر رہے ہیں جبکہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیئے روس ، ایران اور حزب اللہ سمیت متعدد شیعہ شدت پسند تنظیمیں شامی حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں۔۔

عرب اسپرنگ کے بعد

عرب اسپرنگ کے بعد امریکہ اور سٹیٹس کو طاقتوں کی گرفت مذید مضبوط ہو چکی ہے۔۔
تیونس جہاں سے یہ تحریک شروع ہوئی آج وہاں سرف اتنا فرق آیا کہ زین العابدین ابن علی کی حکومت سے اُن کی گلہ خلاصی ہوئی جبکہ سٹیس کو آج بھی
Beji Caid Essebsi
اور
Youssef Chahed
کی صورت میں قائم ہے
شام میں لگی آگ لاکھوں زندگیاں بجھا چکی ہیں۔۔۔ قدیم تحزیبیوں کا گہوارا ملک شام آج کھنڈر کا منظر پیش کرتا ہے۔۔بحرین پر بھی الخلیفہ خاندان کی بادشاہت جی سی سی افواج کی مداخلت سے بچا دی گئی ہے ۔۔
لبیا داعش کا ڈھکانہ بن چکا ہے جہاں پر حکومت اپنا وجود قائم ر کھنے کے لیئے امریکہ اور اتحادیوں کی محتاج ہے۔۔ قزافی دور میں لبیا امن کا گہوارا تھا جبکہ آج یہی لبیا مختلف شدت پسند گروپس اور تنظیموں کے درمیاں میدان جنگ ہے۔۔۔

مصر میں امریکی نواز عبد الفتح السیسی کا کنٹرول ہے ۔۔ اخوان المسلمیں کو اس قدر کمزور کر دیا گیا ہے کہ اُسے اٹھتے اُٹھتے کئی دھائیان لگ جائین گی۔۔۔
ایک اور اہم خطہ یمن ہے۔۔۔ نقشے پر دیکھیں تو یہ
Strategically
ایک اہم تریں ملک ہے۔۔ یہاں
GCC
اتحاد ہوثیوں کے ساتھ دست گریبان ہے۔۔۔ الزام کے مطابق ان ہوثیوں کی مدد ایران کر رہا ہے۔۔۔ اگر نقشے پر نظر دھرائیں تو ہوثیوں کے ذیر اثر علاقہ
Red sea
کی گزر گاہ کے دھانے پر ہے۔۔۔ عرب اتحاد کا خیال ہے کہ اگر ہوثی مضبوط ہو جاتے ہیں تو وہ کسی بھی وقت
Red sea
سے گزرنے والی عالمی ٹریفک کو روک سکتے ہیں۔۔۔ یاد رہے سویز کینال
Red Sea
کو
Mediterranean Sea
سے ملاتی ہے جس کی وجہ سے جہازوں کو کئی ہزار  کلومیٹر کا  شاٹ کٹ مل جاتا ہے۔۔
عرب ممالک کے دماغ میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کی صورت میں ایران
Strait of Hurmaz
بند کر سکتا ہے جہاں سے دنیا کی 40فیصد تیل کی سپلائی روزانہ گزرتی ہے۔۔ اگر ہوثی یمن میں غالب آ گئے تو
Red Sea
پر بھی ایران کا کنٹرول ہو جائے گا جو عرب معیشتوں کے لیئے انتہائی خطرناک ہو گا۔۔

جاری ہے۔۔۔

Comments
Loading...