کیا سماج موبائل کا محتاج ہے ؟

ٹیکنالوجی ایک نعمت یا زحمت

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں رھتے ہوئے موبائل فون اور ٹیکنالوجی کا استعمال ہمارے لیے لازم و ملزم ہو گیا ہے۔ جدید معاشرے میں سیل فونز کا ہونا ضروری ہے. وہ ہم انسانوں کی روزانہ کی زندگی کے لئے مرکزی بن گئے ہیں کہ زیادہ تر لوگوں کو ان کے بغیر گزارہ کرنا مشکل نہیں ناممکن سا لگتا ہے۔

آج کل کی نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ ہمارے والدین اور بزرگ حضرات بھی سوشل میڈیا کے عادی ہو چکے ہیں۔ فیس بک، واٹس ایپ، وائبر، ٹویٹر، اسکائپ، انسٹاگرام اور دیگر بے شمار سوشل میڈیا ایپس لوگوں کے درمیان رابطہ بحال کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ صرف ایک سوائپ کی طرف سے، بلنگ کی ادائیگی کے لئے بینکوں کی خدمات سے آن لائن شاپنگ میں سب کچھ چھوٹے گیجٹ پر کیا جاتا ہے۔ آپ موسیقی سن سکتے ہیں اور اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے دور دراز اور بیرون ملک انجان لوگوں سے دوستی قائم کر سکتے ہو۔ . ہاں یہ آلات قابل اعتماد ہیں، ہاں وہ آسان ہیں اور ہاں وہ زندگی کو آسان بناتے ہیں۔ لیکن کسی بھی چیز کا استعمال ضرورت سے زیادہ انسان کے لئے قابل نقصان ہوتا ہے۔ لوگ ان پر بہت منحصر ہیں. جہاں تک یہ جدید و وسیع ٹیکنالوجی دور تک پہنچنے اور آپکے روابط میں فوائد فراہم کرتے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ یہ اپنے اندر بے شمار کمئیاں بھی رکھتے ہیں۔ وہ لوگ جو سیل فون کے عادی ہیں، دماغ کے کینسر، جسمانی اور نفسیاتی علامات سے متاثر ہونے کے زیادہ امکانات رکھتے ہیں۔

ٹیکنالوجی اور سیل فون پر بہت زیادہ منحصر ہونا دراصل سماج کے بدلتے اصول و ضوابط کے باعث بھی ہے۔ آج کے دور میں ان کو ہر شعبہ جات میں ایک اہم آلہ بنا لینا ہی اس کے زیادہ استعمال کی وجہ ہے۔ آمدنی کیلئے بھی اس کو ایک عظیم آلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ سے ہر قسم کی معلومات لینا بھی ایک نعمت بن چکا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی ہم انسانوں پر معلومات کے ساتوں آسمان کھولتی ہے۔ دور دراز علاقہ جات میں رابطہ کرنے کا ذریعہ اور اس کا محتاج ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اداروں اور انسٹیٹیوٹس میں ٹیکنالوجی کو اب بہت برتری دی جاتی ہے۔

ٹیکنالوجی بے شک ایک کامیاب ریاست کے لئے باعث فخر اور ایک عظیم نعمت ہے مگر ہم اس ہجوم میں اتنا الجھ گئے ہیں کہ ہماری اخلاقی اقدار، علم اور عقل صفر درجے تک پہنچ گئی ہے اور روحانی طور پر بھی ہماری صلاحیتیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔ ہماری نوجوان نسل سماجی نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے دروازوں میں داخل ہونے کے ساتھ ساتھ، اپنی زندگی کے مقاصد کو بھی بھولتی جا رہی ہے۔ اس سماجی نیٹ ورکنگ نے خاندان کے لوگوں کو ایک دوسرے سے کنکشن کو کچل دیا ہے۔ ایک گھر میں رہنے والے ایک دوسرے کی خبر رکھنے کے بجائے سات سمندر پار بیٹھے دوستوں اور واقف کاراوں کی خبر رکھتے ہیں۔ ایک اور انتہائی غلط رجحان جو معاشرے میں بڑھتا پایا جاتا رہا ہے وہ ایک دوسرے کی پرائیویسی کا احساس ختم ہو جانا ہے۔ اگر کسی گھر میں ایک چھوٹی سی تقریب بھی منعقد ہے تو اگلے دن آدھے شہر کو تصاویر کے ساتھ ہیڈلائنز ملتی ہیں یہ سب ہماری جدید ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال کی وجہ ہے۔

دراصل آج کل فطرت انسانی یہ بن چکی ہے کہ انسان اپنے ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ ہمدردی برتنے کے بجائے بے حسی کا مجسمہ بن کر اپنے فون میں بسی دنیا میں مگن رہتا ہے جو کہ جدید ٹیکنالوجی کا ایک بہت منفی اثرات ہے۔ نوجوان نسل کا غلط کاموں میں ملوث ہونا بھی موبائل فون کا ہی اثر ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی پروپیگنڈا مواد زیادہ ہوتا ہے۔ یہاں موجود بہت سا مواد غیر تصدیق شدہ اور یک طرفہ ہوتا ہے یعنی آپ آنکھ بند کر کے کسی پر بھی بھروسہ کرتے ہیں جو کہ بعد میں آپ کے لئے باعث نقصان ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کو انسانوں نے وقت گزاری کا ایک آلہ بنا لیا ہے۔ اگر کسی کے پاس کرنے کو کچھ نہ ہو گا تو وہ اپنا سارا وقت بغیر سوچے سوشل میڈیا پر صرف کر دے گا۔ جس سے انسانی زندگی پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور انسان آہستہ آہستہ مختلف بیماریوں اور شدید ڈیپریشن کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔

Comments
Loading...