چین کے اسٹیل سازوں کی توجہ جنوب مشرقی ایشیا کی طرف مرکوز

چین کی کمپنیوں نے ہمیشہ سے طے کردہ اسٹیل اور کوئلہ کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے کیونکہ وہ جنوب مشرقی ایشیا میں نئ مارکیٹوں کے تعاقب میں ہیں۔ چین کی اسٹیل کمپنیاں انڈونیشیا اور ملائیشیا میں گزشتہ چار برس سے نئے اسٹیل پروجیکٹس 2 , 3 ملین ٹن سالانہ فنڈز دیتا آیا ہے۔ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی جنگ بھڑکنے کے بعد اسٹیل کی تجارت متنازعہ بن گئی ہے۔ امریکہ نے عالمی اسٹیل ٹیرف نافذ کر کے اسے ہدف بنایا، حال ہی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ چین کے کم قیمت اسٹیل کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ اس کے باوجود بنیادی طور پر جنوب مشرقی وسطی میں ، ٹیرف کے خطرے کے بغیر تیزی سے فروغ پاتی مارکیٹوں میں فروخت اور پیداوار کے لیے چینی پروڈیوسرز موجود گنجائش کو منتقل کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ بیرون ملک پلانٹس میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کی جانب چین کا مبذول ہونا اسکی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ یہاں تیز رفتار بڑھتی ہوئی آمدنی اور معاشی ترقی ہے اور دونوں صنعتوں میں اسٹیل کا بہت زیادہ استعمال ہے۔ چینی پروڈیوسرز کیلئے یہ منتقلی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کا معاملہ ہے۔ کئی دہائیوں سے شدید ملی طلب کی وجہ سے پیداوار کے حوالے سے چین کا اسٹیل کا شعبہ دنیا میں سب سے بڑا ہے۔ یہ اب تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ حکام نے اسٹیل کی گنجائش کو کم کر دیا ہے۔ چینی کمپنیوں نے لوہے کی کچ دھات اور نکل جیسی اسٹیل سے متعلق پروڈکشن میں بھی سرمایہ لگایا ہے۔ 2016 تک، چین نے اپنے صنعتی شعبوں کو فروغ دینے کی کوشش میں 150 ملین ٹن کی گنجائش میں کمی کی۔ چین اسٹیل کمپنیاں اور ٹھیکیداروں کو ملک میں ریاستی بینکوں سے سستے سرمائے کیلئے رسائی بھی حاصل ہے۔

Comments
Loading...