چیف جسٹس کا دو خواجہ سراؤں کو سپریم کورٹ میں ملازمت دینے کا اعلان۔

اسلامی تعلیمات اور مسلم معاشرے میں خواجہ سرا ،زنخوں ،زنانوں کو بھی بطور مسلمان وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو عام مسلمان کو حاصل ہیں لیکن حقیقی دنیا میں ایسا نہیں ہو رہا۔ پاکستان میں مذہبی دباؤ اور سماجی ناہمواری کے باعث عام انسان ذلت کی گہرائیوں میں زندہ رہنے پر مجبور ہے۔ تین کروڑ سے زائد لوگ ایسے ہیں جو تاریک راہوں کے مسافر ہیں جنہیں اپنے اور اپنے متعلقین کے پیٹ کی آگ بجانے کے لئے خود آگ میں جلنا پڑتا ہے۔ جن میں سرفہرست خواجہ سرا ، زنخے یا زنانے ، ہم جنس پسند شامل ہیں۔

ایسے ہی سپریم کورٹ میں خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ سراؤں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے این جی اوز اور کے پی حکومت کو نوٹس جاری کردیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں کی تضحیک کی جاتی ہے۔ عدالت خواجہ سراؤں کو قومی دھارے میں لانا چاہتی ہے خواجہ سراؤں کو حقوق دلانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ سپریم کورٹ میں دو خواجہ سراؤں کو ملازمت دیں گے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت خواجہ سراؤں کی حفاظت اور انکے مسائل کا حل چاہتی ہے۔کیا تمام درخواست گزاروں کے شناحتی کارڈز جاری ہو گئے۔ ,چیئرمین نادرا نے بتایا کہ شناختی کارڈز جاری کر رہے ہیں سہولت مہم بھی جاری ہے چیف جسٹس نے کہا کہ محض کارروائیاں نہیں ہونی چاہئییں۔ کے پی میں خواجہ سراوں کی تذلیل کی جاتی ہے اور انکو جان لیوا دھمکیوں کا سامنا ہے ,سیکرٹری کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ سراوں کو قتل بھی کیا گیا ہےمجھے ایسی اطلاعات پر بہت افسوس ہے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ
اس طرح کے واقعات بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔سپریم کورٹ نے خواجہ سراوں کے خلاف ویب سائٹس کا بھی نوٹس لے لیا۔ اور عدالت نے خواجہ سراوں کے حقوق کے حوالے سے سفارشات دو ہفتوں میں طلب کرلیں،اس کے بعد کیس کی سماعت دوہفتوں کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔

یہ ہی تو ہمارا معاشرہ ہے جو انصاف کی بات کرنے میں بھی شرم۔محسوس کرتا ہے۔ البتہ خواجہ سرا وں کے دکھ الگ ہیں۔ وہ اپنے خاندانوں سے الگ رہتے ہیں۔ انسان ہوتے ہوئے بھی انہیں ان کے اپنے انسان نہیں سمجھتے اور نہ ہی معاشرہ انہیں قبول کرتا ہے۔ خواجہ سرا ایک ایک کمرے کے ایسے گھروں میں رہتے ہیں جو رہائشی علاقے یا آبادیوں سے ہٹ کے ہوتے ہیں۔ اگر رہائشی علاقوں ہوں بھی تو ایسی جگہ پر کہ جہاں لوگوں کی آمدو رفت نہیں ہوتی۔ یہ کمرے زیادہ تر پلازوں یا بڑی عمارتوں کا حصہ ہوتے ہیں ، ان کمروں میں پانی ، بجلی ، گیس سمیت دوسری بنیادی ضرویات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ دوسرا یہ کمرے عمومی طور پر ایسی جگہ ہوتے ہیں جن جگہوں پر کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہے اور یہ انتہائی گندی جگہ ہوتی ہیں۔ اس لئے ایک محفوظ اور انصاف پسند ریاست کےلیے سب سے پہلے ہمیں ہر جان انسانی کو برابر کے حقوق دینا ہوں گے جو کہ ہمارا اخلاقی فریضہ بھی ہے۔

Comments
Loading...