پیٹرن، نیا پاکستان اور احساس تحفظ

کیا یہ تبدیلی خود آئی یا یہ کسی کی پلاننگ سے آئی؟؟؟

معروف فلاسفر اور مشہور زمانہ کتاب
The Prince
کا مصنف نیکولو میکاولی پہلافلسفی تھا جس نے یہ مشاہدہ کیا کہ ہم انسان ہر کام ایک واضع طریقے یا پیٹرن سے کرتے ہیں۔۔۔ گو کہ ہر انسان کا اپنا اپنا پیٹرن ہوتا ہے۔۔۔ اور پھر وہ طریقہ یا پیٹرن۔۔۔ ہماری فطرت کا حصہ بن جاتا ہے۔ مثلاً میں صبح 6بجے اُٹھتا ہوں ، اُٹھ کر باتھ روم جاتا ہوں اور برش کر کے چائے پیتا ہوں ۔۔چائے کے ساتھ اخبار پڑھتا ہوں۔۔ اسی طرح میں کھانے پینے میں بھی ایک خاص پیٹرن فالو کرتا ہوں۔۔۔ میری گفتگو اور بات چیت کا طریقہ بھی اپنا ایک خاص پیٹرن رکھتا ہے، میری سوچ بھی ایک خاص طریقے سے چلتی ہے۔۔۔ جس دن چائے کے وقت اخبار نا ملے مجھے بُرا لگتا ہے۔۔
ہمارے یہ پیٹرن ہمیں احساس تحفظ دیتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ جس دن ہم ان پیٹرنز پر نہ چل سکیں اس دن ہمارا دن اچھا نہیں گزرتا۔۔
شخصی پیڑنز کی طرح معاشرتی پیٹررنز بھی ہوتے ہیں۔۔ جو معاشرے کی مجموعی طرزعمل کا عکاس ہوتے ہیں۔ اور پھر قومی اور بین الاقوامی پیٹرن۔۔۔۔۔
اگر ہم فرد واحد یا معاشرے کی پیٹرنز کو سمجھ جائیں تو کسی بھی فعل یا عمل پر اس کا رد عمل بڑی آسانی سے پریڈیکٹ کر سکتے ہیں۔۔ اسی بنیاد پر بین الاقوامی تعلقات کی دو بڑی
Theories
یعنی
Theory of Realism
اور
Theory of Strategic culture
بنیاد رکھتی ہیں۔۔
انسان چونکہ ان پیٹرنز میں خود کومحفوظ محسوس کرتے ہیں اور انہی کو فطرت سمجھتے ہیں اسی لئے اگر کبھی انسانی طرز عمل میں کہیں کبھی پیٹرن ٹوٹتا ہوا نظر آئے تو دیکھنے والے الرٹ ہو جاتے ہیں۔۔
انقلاب یا تبدیلی اسی لیئے بہت ظالم ہوتی ہے۔۔۔ کیونکہ اس کے آتے ہی پیٹرن ٹوٹ جاتے ہیں۔۔
آج پاکستان میں تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔۔۔ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار سرمایہ داری اور جاگیرداری کے بت ٹوٹ گئے ہیں۔۔۔ وہ جو حق حاکمیت کو اپنا استحقاق سمجھتے تھے آج ان میں سے کئی پارلیمنٹ میں کوئی سیٹ بھی حاصل نا کر سکے۔۔۔ اسی لیئے اُن میں ایک غصہ ہے ، ایک بدلا لینے کی آگ ہے جو انہیں تبدیل ہوتے زمینی حقائق ماننے نہیں دے رہی۔۔۔
آج وہ سیاسی پنڈت، وہ جاگیر دار ، وہ سرمایہ دار ، وہ بیوروکریٹ جو کسی نا کسی شکل مملکت پاکستان پر مسلط رہے ، خود کو معلق پا رہے ہیں۔۔۔ ان میں سے جو معاشرے کی نبض سمجھ گئے وہ فوراً عوام کے ساتھ آکھڑے ہوئے لیکن جو نا سمجھ سکے وہ آج تبدیلی کے خوف سے بد حال ہوئے بیٹھے ہیں۔۔
کیا یہ تبدیلی خود آئی یا یہ کسی کی پلاننگ سے آئی؟؟؟
اسے سمجھنے کے لیئے پاکستان کی معروضی حالات سمجھنا ضروری ہے۔۔۔ پاکستان معاشی ، معاشرتی اور سیاسی اعتبار سے بنانا سٹیٹ بنتا جا رہا تھا۔۔۔ ایک طرف ملک کا
Debt to GDP Ratio
ستر فیصد تک پہنچ گیا تھا تو دوسری طرف
برامدات متواتر گرتی جا رہی تھیں۔۔ پاکستان اندرونی اور بیرونی دہشتگردی کا شکار بن چکا تھا۔۔۔اسی ہزار قربانیوں اور دہشتگردی کے خلاف فتوحات کے باوجود پاکستان کو دہشتگردی کا گڑھ کہا جا رہا تھا۔۔۔ قوم پانی کے سنگین بحران کے دھانے پر کھڑی تھی۔۔۔ زور مرہ کی زندگی کی ڈوری قائم رکھنا عام پاکستانی کے لیئے عظیم ترین چیلنج بنتا جا رہا تھا۔۔۔نام نہاد سیاسی جماعتیں اقدار کے کھیل میں عوام کو غیر ضروری مسائل میں الجھا رہی تھیں۔۔ ایک عمران تھا جو ظلم کے خلاف بولنے کی پاداش میں درباری صحافیوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کی تنقید اور تمسخر کا سامنا کر رہا تھا۔۔۔
سارا سٹیٹس کو عمران کے خلاف یکجا تھا اور ہے کیونکہ وہ عوام کی بات کر رہا تھا۔۔۔ وہ پیٹرن توڑ رہا تھا اور اُس کا پیٹرن توڑنا جمہوریت کے ٹھیکیداروںکے لیے احساس عدم تحفظ پیدا کر رہا تھا۔۔۔
نام نہاد جمہوریت میں جمہور کی اوقات ناچنے والے بندر سے زیادہ نہیں رہ گئی تھی۔۔۔ پھر وقت آیا عمران کامیاب ہوا۔۔۔ جمہور نے غلامی کی زنجیر توڑنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ 2018میں موروثی و خاندانی سیاست کے تمام بت توڑ ڈالے۔۔۔ خود کو بلند سمجھنے والے ایک ہی دن میں پستی کے مقیم ہو گئے۔۔۔ آج یہ سب سٹیٹس کو اپنے سروائیول کی جنگ لڑ رہا ہے۔۔عوام نے تبدیلی کو اپنے بقا کے لئے ووٹ دیا کیونکہ سیاسی پیٹرن دم گھوٹ رہا تھا۔
تبدیلی بہت ظالم ہوتی ہے ۔۔۔ پیٹرن ٹوٹ جاتے ہیں اور لوگ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔۔آج تبدیلی کو روکنے کے لیئے معمولی معمولی اور غیر اہم اعترازات اُٹھا کر حکومت کو تبدیلی سے روکنے کی کوششین ہو رہی ہیں۔۔۔ اب یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کرے اور سیاسی مخالفین کی غیر ضروری تنقید سے مت گھبرائے۔۔۔ عوام نے نئے پاکستان کے لیئے مینڈیٹ دیا ہے حکومت اگر اپنے وعدوں میں سچی ہے تو دنیا کو ایک با عزت خوشحال پاکستان بنا کر دیکھائے

Comments
Loading...