پولیس تشدد، بد سلوکی اور گرفتاریوں کے خلاف کوئٹہ میں وکلاء نےا احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ کیا

چونکہ عزت و احترام ہر فرد کا جائز حق ہے اور ملک کی خدمت میں اپنی زندگیوں کو وقف کرنے والے لوگ بلا شبہ عزت و وقار کے حامل ہیں۔۔۔ اس لئے انسان اپنے ملک کی خاطر جان کی قربانی تو دے سکتا ہے مگر اپنے عزت نفس پر ایک حرف بھی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔

حال ہی میں ایسا ہی ایک واقعہ پاکستان کے شہر کوئٹہ میں پیش آیا ۔۔۔

باغی ٹی وی نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وکیل حضرات نے احتجاجاً عدالتی کاروائیوں کا بائیکاٹ ہے اور اس کی وجہ وہاں کی پولیس کا نارواں اور بد تر سلوک اور ان کی جانب سے گرفتاریوں اور تشدد تھا۔۔۔

وکلاء کے اس احتجاج کے نتیجے میں سائلین اور جن لوگوں کے کورٹ میں کیسیس چل رہے ہیں ان کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔

جبکہ نہ صرف وکلاء اور اے سی سٹی کا جھگڑا ہوا بلکہ وکلاء اور نیوز چینل کے صحافی کے درمیان بھی سخت جھگڑے کا واقعہ پیش آیا۔۔۔

مذید آپ کو بتاتے چلیں کہ تفصیلات اور جھگڑے کی لیک ہونے والی ویڈیو کے کوئٹہ میں گزشتہ شپ گاڑیوں کی پارکنگ کے مسئلے پر وکلاء اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی کے درمیان ایک بحث چھڑ گئی۔۔۔ جس کے خلاف وکلاء نے احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے عدالتی کاروائیوں میں حصہ نہیں لیا۔۔۔

بعد ازاں وکلاء کی جانب اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سٹی کے سنیعہ صافی اور دیگر کیخلاف سٹی تھانے میں سینئر وکیل بدرمنیر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں وکلاء نے موقف اپنایا کہ اے سی سٹی کے حکم پر ان کے ہمراہ اہلکاروں نے وکلاء سے بدتمیزی کی اور تشدد کیا اور وکلاء کو جانی و مالی نقصان بھی پہنچایا گیا۔۔۔

درج ہونے والے مقدمے میں 337 ،427 ، 504 اور 506 سمیت مختلف دفعات شامل ہیں۔۔

۔جس میں دفعہ 504 کے مطابق کسی انسانی جان کی تذلیل کرنے پر دو سال کی سزا یا جرمانہ کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ یا تو دونوں چیزوں پر عمل درآمد کرنا پڑتا ہے۔۔
دفعہ 506 کے مطابق ، کسی انسان پر بے بنیاد الظام تراشی کرنے پر، یا دو فرقوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے پر، تین سال کی سزا اور جرمانے کی بھی ادائیگی شامل ہے۔۔
دفعہ 337 اور 427 کے مطابق کسی انسانی جان کو نقصان پہنچانے پر، یا کسی کو اذیت دینے پر دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔۔۔

شکایت کرنے والے صحافی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب انہوں نے عدالتی بائیکاٹ کے باعث سائلین کو درپیش مشکلات کے حوالے سے انٹرویو کیا تو وکلاء نے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔۔۔

مزید اس کا کہنا تھا کہ مشتعل وکیل نے کیمرہ مین سے کیمرہ چھیننے کی کوشش کی اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی۔۔۔

واضح رہے وکلاء کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر بار کونسل کی اپیل پر پشاور میں بھی وکلاء کی جانب سے عدالتی کاروائیوں کا بائیکاٹ کیا۔۔۔

Comments
Loading...