مملکت سعودی عرب میں جانوروں کے حقوق کی خلاف ورزی پر دس ملین جرمانہ مقرر پایا

سعودی عرب نمائے عرب میں سب سے بڑا ملک ہے ۔ جسکے شمال میں عراق، مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب میں یمن اور اس کے مغرب میں بحیرہ قلزم واقع ہے ۔ سعودی عرب حرمین شریفین کی سرزمین کہلاتی ہے کیونکہ یہاں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ موجود ہیں۔ یہاں کا نسلی گروہ 90% عربی ہے اور 10% افریقی عرب ہے۔ کیونکہ یہ ایک اسلامی مملکت ہے تو اس میں نہ کہ صرف انسانوں بلکہ ہر جاندار کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے اور سخت قوانین نافذ کئے جاتے ہیں جو کہ اسلامی تعلیمات پر مبنی ہوتے ہیں۔۔

سعودی عرب ایک بہت ہی ترقی یافتہ اور محنت کرنے والا ملک ہے۔ اور اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر کھڑی ایک مضبوط ریاست ہے جہاں کسی کے حق کو پامال نہیں کیا جاتا اور نہ ہی کسی کے ساتھ ناانصافی برداشت کی جاتی ہے۔۔

حال ہی میں سعودی وزارت ماحولیات و پانی وزراعت کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ مساعد ابا الخیل کے مطابق سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک نے جانوروں کے حقوق پامال کرنے پر 10 لاکھ ریال تک کا جرمانہ مقرر کردیا ہے۔ اور بطور اس ریاست کا قانون نافذ کیا گیا ہے۔ مزید ان کا کہنا تھا کہ اس پر عملدرآمد بھی شروع کردیا گیا۔ سعودی عرب اب تک اس حوالے سے ہونے والی خلاف ورزیوں پر جرمانے لگاچکا ہے۔ سعودی اخبار کے مطابق جانوروں کے ڈاکٹروں اداروں اور جانور فروخت کرنے والے لوگوں اور گھریلو جانوروں اور مویشی پالنے والوں پر جرمانے عائد ہونگے۔۔۔

جی سی سی ممالک میں جانوروں کے حقوق کا قانون 16دفعات پر مشتمل ہے۔ جانور فروخت والی دکانوں اور انہیں پالنے کے شوقینوں پر پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ جانوروں کے رہن سہن کا خصوصی اہتمام کریں گے اور ان کی قیمتی جانوں کی حفاظت کریں گے۔ انکی نگرانی کے لئے اقدامات مہیا کریں اور جو ایسا نہیں کرے گا اس کو قوانین کو توڑنے پر مقرر پائی سزا کا حق ادا کرنا ہوگا۔۔

سعودی ریاست کے طے شدہ قوانین کے مطابق جانوروں کے حقوق کا پامال کرنے والوں کے جرمانوں اور سزا پر آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں۔۔۔
ایک سال میں پہلی خلاف ورزی پر 50 ہزار ریال، دوسری بار خلاف ورزی پر جرمانہ دگنا قرار پائے گا اور تیسری خلاف ورزی پر جرمانہ مزید بڑھا دیا جائیگا اور 90دن کے لئے ادارہ سربمہر کردیا جائے گا۔ چوتھی بار خلاف ورزی پر جرمانہ تیسری بار کے جرمانے سے دگنا ہوگا اور اجازت نامہ منسوخ کردیا جائے گا۔۔۔
سعودی عرب کے ایک مقامی شہری نے شکوہ کیا تھا کہ سعودی وزارت ماحولیات و پانی وزراعت جانوروں کے حقوق پامال کرنیوالوں کو سزا دینے میں لاپروائی برت رہی ہے اور ان کو جانوروں کے حقوق کے لیے بھی کوئی مناسب اقدامات اٹھانے چاہئے۔

جی سی سی ممالک میں جانوروں کے حقوق کا قانون 16دفعات پر مشتمل ہے۔ قانون میں جانوروں کے مالکان اور انکی نگہداشت کرنے والوں پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ تمام احتیاطی تدابیر اپنائیں۔ جانوروں کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ انہیں اذیت نہ دیں۔ ۔ سعودی ریاست کی یہ مثال باقی دنیا کی ریاستوں اور ان کے سربراہوں حکمران کے لیے ایک قابل فخر مثال ہے جن پر ان سب کو بھی غور و فکر کی اشد ضرورت ہے۔۔

Comments
Loading...