مسلم کانفرنس آج بھی نظریہ پاکستان اور سبزہلالی پرچم کو بلند کیے ہوئے ہے .سردارعتیق احمد خان

سہنسہ ( نمائندہ باغی ٹی وی ) سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر اور مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے سربراہ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ میاں نواز شریف اور زردار ی دونوں کے ٹائی ٹینک ڈوبنے والے ہیں فاروق حیدر کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہوتے ہیں اسمبلی میں بیٹھے ہوئے لوگ واپس ریاستی جماعت کا حصہ بن جائیں گے ملک کے اندر اور باہر کی دنیا کو پتہ چل گیا کہ مسلح افواج پاکستان کیا صلاحیت رکھتی ہے غیر ریاستی جماعتوں نے اقتدار مفاد کی خاطر ریاستی تشخص کو بھی مجروح کیا اور تحریک آزادی کشمیر کو بھی کمزور کیا ۔ مسلم کانفرنس ایک عدد ی اعتبار سے کم ہونے کے باوجود اسمبلی کے اندر اور باہر ریاست کے وقار کی علامت ہے ۔ وہ وقت دور نہیں جب آزاد خطے کے اندر ایک بار پھر مسلم کانفرنس کا دور ہوگا ۔ جس طرح مودی کا بوریا بستریا گول ہونے والا ہے اسی طرح ن لیگ بھی آخری ہچکولے کھارہی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران کو اقتدار سنبھالتے ہی معاشی آزمائشوں سے گزرنا پڑرہاہے مگر عمران خان کا مشکل وقت گزر گیا ہے اب پاکستان کے اندر خوشحالی آنے والی ہے ان خیالات کا اظہار انھوں نے مسلم کانفرنس حلقہ کے صدر راجہ الیاس خان کی رہائش گاہ پر ان کے بھتیجے یوتھ کے صدر زعفران کی وفات کے بعد تعزیت اور افسوس کے بعد میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ پچھلے چار پانچ ماہ سے پاکستان کے اندر معاشی بحران سیاسی بحران اقتصادی بحران آزمائشوں اوررکاوٹوں سے حکومتوں کو گزرنا پڑرہاہے ۔ مگر اب حالات سنبھل رہے ہیں اور پاکستان ترقی کی راہوں پر گامزن ہون شروع ہوگیاہے انھوں نے کہا کہ ریاستی و نظریاتی جماعت کو چھوڑ کر جانے والے اب پچھتاوے میں ہیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں فاورق حیدر کو حادثاتی طور پر اقتدار تو مل گیا مگر انھوں نے تمام ادار ے تبا ہ کر دیے حکومتی نظام چلانے انتظامی امور کو بحال رکھنے میں وہ ناکام ہو چکے ہیں حکومت کی کہیں بھی کوئی اتھارٹی نظر نہیں آرہی ۔ انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کو حریت رہنماﺅں کی گرفتاریوں بھارتی مظالم اور ایل او سی پر فائرنگ کا نوٹس لینا چاہیے ۔ کریک ڈاﺅن ، تشدد قتل اور املاک کی تباہی بھارت نے معمول بنا لیا ہے دوسری طرف کشمیری پچھلے ستر سالوں سے آزادی کی راہ دیکھ رہے ہیں ۔ مسئلہ کشمیر پرسلامتی کونسل نے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ۔ انھوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس آج بھی مجاہد اول کی سوچ فکر فلسفے ، نظرئیے کی پاسداری کرتے ہوئے سبز ہلالی پرچم کو سربلند رکھے ہوئے ہے ۔ آزاد خطہ میں مسلم کا نفرنس کو کمزور کر نے سے آج ریاستی تشخص مجروح ہوچکا ہے ۔ غیر ریاستی جماعتی کشمیریوں کے تشخص کو کمزور کر رہی ہیں سیاسی جماعتوں پر نشیب و فراز آتے رہتے ہیں اس لیے ریاستی عوام اور نظریاتی کارکنان کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مسلم کا نفرنس کے جماعتی عہدیداروں اور نظریاتی کارکنوں نے استقامت اور ثابت قدمی سے ہر مشکل میں مردانہ وار مقابلہ کیا اور ریاستی تشخص کا تحفظ کیا ۔ انھوں نے کہا کہ مجاہد اول سردار عبدالقیوم کی سیاسی جہادی ، تحریکی فکری مذہبی اور رفاعی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں ۔ کشمیریوں کی پہچان رکھنے تحریک آزادی کے نگہبان ہونے تعمیر و ترقی کی علامت رکھنے اور عوامی خدمت ان کا نصب العین تھا ۔ جنھوں نے ہر دور میں کشمیریوں کی وکالت کی ذمہ داری نبھائی انھوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس ریاست کے اندر ایک ریاستی تشخص رکھنے والی جماعت ہے وہ خطے اور پاکستان کی ہی نہیں بلکہ پوری ملت کی سرمایہ حیات جماعت ہے جس کی قیادت نے اسلامی ریاستوں کے اندر بھی فکری شعور بیدار کیا ۔

Comments
Loading...