قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کی بقاء کا ذریعہ انسانی عزائم کی نذر ہونے کو ہے

تحفظ آب کی قومی پالیسی کی نیول اینکرج اسلام آباد میں سنگین کھلی پامالی ۔

قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کی بقاء کا ذریعہ انسانی عزائم کی نذر ہونے کو ہے۔ صدیوں سے قدرتی جھیل اور قریبی جنگل پر سفاکانہ کارروائی جاری۔ کروکڈ سٹریٹ والی قدرتی جھیل کو صفحہ ہستی سے مٹایا جانے لگا۔

دفاعی ادارے کے سابق اعلی افراد کے مبینہ مفاد پر مبنی عزائم کا پردہ چاک ہوگیا۔

تحفظ آب کیلئے سرگرم قوم اور اسکی اداروں کی کاوشوں کو کھلا چیلنج۔

ممکنہ کاروباری عزائم کیلئے قدرتی جھیل کو مٹی سے بھرنے کی سرعام کوشش۔

نیول اینکریج انتظامیہ، کروکڈ سٹریٹ جھیل کیلئے بنائے سابقہ اصولوں سے منحرف ہوگئی۔ مادی مفادات کے لالچ نے اینکرج کے ماسٹر پلان والے ضوابط کو بھی پس پشت ڈال دیا- جھیل کے گرد کبھی چرند پرند کا تحفظ اولین تھا ، اب انسانی لالچ سب پر حاوی آگیا۔ تیتر، مرغابی، فاختہ جیسے نایاب پرندوں کی مسکن اور افزائش نسل والی جھیل تباہی کے دہانے پر۔

مٹی سے لدے سینکڑوں ڈمپرز ، ہزاروں مربع گز جھیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر متعین۔ علاقے میں زیر آب پانی کا بڑا ذریعہ جھیل تباہی کے کنارے پر پہنچ گئی۔ جھیل کے قریب ارد گرد سینکڑوں درخت بھی بے دردی سے اکھاڑ پھینک دیئے گئے۔

قدرتی حیات اور اسکی بقاء انسانی لالچ کے سامنے بے بس ہوگئے۔

نیول اینکرج انتظامیہ کا سفاکانہ اقدام ، چیف جسٹس آف پاکستان ، حکومت پاکستان اور عوام کیلئے کھلا چیلنج بن گیا- اینکرج انتظامیہ نے علاقہ مکینوں کی مخالفت اور تحفظات کو بالائے طاق رکھ دیا۔ اینکرج انتظامیہ کا اقدام آبی تحفظ کے ساتھ قدرتی حیات کی بقاء کے مقدس مشن کی سنگین پامالی کا باعث بننے لگا۔

Comments
Loading...