فٹبال ورلڈ کپ 2018 میں ’بڑی ٹیموں‘ کا غیر متوقع آغاز

روس میں فٹبال ورلڈکپ 2018 کا آغاز گذشتہ ہفتے سے ہو چکا ہے جس میں دلچسپ مقابلے تو دیکھنے کو مل ہی رہے ہیں لیکن ساتھ میں شائقین ’بڑی ٹیموں‘ کی غیرمتوقع کارکردگی پر حیران بھی ہیں۔

اب تک دفاعی چیمپیئن جرمنی، ارجنٹینا، برازیل، سپین، پرتگال اور فرانس اپنے اپنے ابتدائی میچز کھیل چکی ہیں، لیکن سوائے جرمنی اور فرانس کے باقی تمام ٹیموں نے اپنے اپنے میچوں کا اختتام برابری پر کیا۔

فرانس نے اپنے پہلے میچ میں آسٹریلیا کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست تو دی تاہم اس کے لیے یہ اتنا آسان نہیں تھا۔
ورلڈ کپ کا پہلا اپ سیٹ
جبکہ دفاعی چیمپیئن جرمنی کے لیے اس ورلڈ کپ میں آغاز انتہائی غیر متوقع ثابت ہوا اور اسے 15ویں رینکنگ کی ٹیم میکسیکو کے ہاتھوں صفر کے مقابلے میں ایک گول سے شکست ہوئی، جسے اس ورلڈ کپ میں اب تک کا سب سے بڑا اپ سیٹ کہا جا سکتا ہے۔

سنہ 1982 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب جرمنی کو ورلڈ کپ میں اپنے پہلے ہی میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ یہ لگاتار تیسرا ورلڈ کپ ہے جب دفاعی چیمپیئن کو ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں فتح نہ ملی ہو۔ اس سے قبل 2010 میں اٹلی اور پیراگوئے کا میچ برابر رہا تھا جبکہ 2014 میں ہالینڈ نے سپین کو پانچ ایک سے ہرایا تھا۔

میکسیکو کی جرمنی کے خلاف یہ پہلی جیت تھی جبکہ اس نے ورلڈ کپ مقابلوں میں اپنے پہلے میچ میں شکست نہ کھانے کا ریکارڈ بھی برقرار رکھا۔ اب تک چھ میں سے پانچ مرتبہ میکسیکو نے اپنے سفر کا آغاز فتح سے کیا ہے جبکہ ایک میچ برابر کھیلا ہے۔

اتوار کو لوزنیکی سٹیڈیم میں کھیلے گئے گروپ ایف کے اس میچ میں میکسیکو کی جانب سے بہترین کھیل کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا اور پہلے ہاف میں ہی 22 سالہ ہرونگ لوزانو نے گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی جو میچ کے آخر تک برقرار رہی۔
جرمنی نے مُلر، ہملز، اوزل اور کروز جیسے کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے میکسیکو کے گول پر کل 25 حملے کیے لیکن اسے کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

اس میچ میں جرمنی کے دفاعی کھلاڑیوں کے کھیل پر میچ کے دوران اور بعد میں بھی شائقین اور ماہرین کی جانب سے تنقید کی جاتی رہی اور ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر میکسیکو کی ٹیم ملنے والے تمام مواقع سے فائدہ اٹھاتی تو شکست کا فرق ایک صفر سے کہیں زیادہ ہوتا۔
40 برس بعد برازیل پہلا میچ جیتنے میں ناکام
دوسری جانب اتوار کو ہی گروپ ای میں برازیل اور سوئٹزرلینڈ کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا میچ ایک، ایک گول سے برابر رہا۔

یہ 40 برس میں پہلا موقع تھا کہ برازیل کی ٹیم ورلڈ کپ میں اپنا افتتاحی میچ جیتنے میں ناکام رہی۔ آخری مرتبہ ایسا 1978 میں ہوا تھا جب سویڈن سے اس کا میچ برابر رہا تھا۔

پانچ مرتبہ کے عالمی چیمپیئن برازیل نے اتوار کی شب میچ کے ابتدائی لمحات میں ہی فلپ کوٹینو کے شاندار گول کی بدولت برتری تو حاصل کر لی تھی لیکن وہ اسے برقرار نہ رکھ سکا۔

میچ کے پہلے ہاف کا اختتام برازیل کی برتری پر ہوا اور دوسرے ہاف میں لگ کچھ ایسا ہی رہا تھا کہ برازیل یہ میچ جیت جائے گا لیکن میچ کے 77ویں منٹ میں سوئٹزرلینڈ کے سٹیون زوبر نے زبردست ہیڈر پر گول کر دیا۔

برازیل سٹار فٹبالر نیمار جونیئر کے ہوتے ہوئے نہ تو دوسرا گول کر سکا اور نہ ہی جیت اس کے ہاتھ آئی۔

میچ کے دوران برازیل اور سوئٹرز لینڈ کی جانب سے ایک دوسرے پر کل 26 حملے کیے گئے جن میں سے برازیل نے 20 اور سوئٹزرلینڈ نے صرف چھ ہی بار مخالف ٹیم پر گول کرنے کی کوشش کی۔

اس طرح پرتگال، سپین اور ارجنٹینا کی طرح برازیل کو بھی ورلڈ کپ 2018 میں جیت کا مزہ چکھنے کے لیے اپنے آئندہ میچوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔

Source BBC
Comments
Loading...