صحافی ، سوشل میڈیا اور ففتھ جنریشن وار

صحافی ، سوشل میڈیا اور ففتھ جنریشن وار۔۔۔

انسان تبدیلی سے ڈرتا ہے۔۔۔انسان کسی بھی نئی چیزچاہے وہ نظریہ ہو ، نظام ہو یا کوئی بھی ایسی چیز جو روٹین سے ہٹ کر ہو۔۔۔ وہ ڈرتا ہے۔۔۔ ہر نئی چیز اسے احساس عدم تحفظ کا شکار کر دیتی ہے۔۔ اور یہی احساس عدم تحفظ اُسے اس نئی چیز سے نفرت پر مجبور کر دیتی ہے۔۔
وہ معاشرے جو غلامی کا شکار ہوں یا نئے نئے آزاد ہوئے ہوں وہاں تبدیلی یا چینج بذات خود ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔۔ اس کی وجہ وہ مخصوص مائینڈ سیٹ ہوتا ہے جو ان کی فطرت بن چکا ہوتا ہے۔۔
انسانی معاشروں میں حقائق سے زیادہ اہم حقائق سے متعلق تاثر یا
preceptions
ہوتی ہیں۔۔۔ یہی تاثر حقائق کو معاشرتی مائینڈ سیٹ کے مطابق ڈی کوڈ کرتے ہیں۔۔
گلوبلاآئزیشن کے اس دور میں مخصوص تاثرات ذہنون میں بنانے کا کام میڈیا اور سوشل میڈیا سے لیا جاتا ہے۔۔۔ میڈیا جس میں اخبار اور چینلز وغیرہ اہم ہیں مخصوص پالیسیز کی بنا پر خبروں کی تشریحات کرتے ہیں ۔۔ ان تشریحات سے عوام کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔۔ جسے اشرافیہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیئے بروئے کار لاتی ہے۔۔ یعنی اس دور میں ذہن سازی استاد اور مفکر نہیں بلکہ سرمایہ دار ٹیلنٹ خرید کر اپنی مرضی کے مطابق کرواتا ہے ۔۔ جس کا فائیدہ سرمایہ دار اور وہ سیاسی جماعتیں حاصل کرتی ہیں جن کے ساتھ یہ اتحادی ہوتا ہے۔۔
پاکستانی اور دنیا بھر کی عوام ایک بڑی غلط فہمی اور حسن ظن کا شکار ہے۔۔لوگ سمجھتے ہیں کہ صحافی سچائی کے مسافر اور حق کے مجاہد ہوتے ہیں۔۔
لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ چینلز اور میڈیا ہاﺅسز قوم کو معلومات پہنچانے اور قومی مفاد اور معاشرتی عدل کو فروغ دینے کے لیئے کھولے جاتے ہیں۔۔۔
میرے پاس ایک بری خبر ہے۔۔۔ لوگ سب غلط سمجھتے ہیں۔۔۔ کوئی سیٹھ قوم کی خدمت کے لیئے چینل نہیں کھولتا۔۔۔ اس کے پیش نظر اس کے معاشی اور سیاسی مفادات ہوتے ہیں جن کی حفاظت کے لیئے چینل کھولے جاتے ہیں۔۔۔ ہر ادارے کی پالیسی انہی مفادات کی بنیاد پر بنتی ہے۔۔۔
صحافی اس ادارے کا کارکن ہوتا ہے جو تنخواہ کے بدلے اپنی خدمات بیچتا ہے۔۔۔ وہ مجبور ہوتا ہے کہ اپنے ادارے کی پالیسی پر چلے۔۔۔نہیں چلے گا تو بے روزگار ہو جائے گا۔۔۔
آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ ایک ہی خبر کو مختلف چینلز ،اخبارات اور ویب سائٹس مختلف انداز سے پیش کرتے ہیں اور ہر انداز عوامی ذہنوں میں مخصوص قسم کے تاثرات پیدا کرتا ہے اور یہی تاثرات سچائیان تراشتے ہیں۔۔
صحافی دو طرح کے ہوتے ہیں۔۔ ایک وہ جو شریف صحافی ہوتے ہیں۔۔ یہ مجبوراً ادارے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور نوکری اور بچوں کی خاطر پروفیشنل ازم کے نام پر سمجھوتا کرتے ہیں مگر دلی اعتبار سے وہ اس پیشے میں غیر جانبداری کے خواہاں ہوتے ہیں۔۔۔ انہیں جہاں موقع ملتا ہے وہ عوام کے اذہان تک کسی نہ کسی طرح مثبت پیغام پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ یہ لوگ عموماً ساری زندگی مڈل کلاسیئے ہی رہتے ہیں۔۔
صحافیوں کی دوسری قسم سرمایہ دار کی خوشنودی حاصل کر کے نظام میں ترقی کے طریقے سمجھ جاتی ہے۔۔ حلال و حرام ان کے لیئے بے معنی ہو جاتا ہے۔۔ انہیں سیاسی جماعتوں ، سرکاری اداروں اور یہاں تک کے بیرون ممالک سے رشوتین اور مراعات ملتی ہیں۔۔۔ ان کا کام مخصوص طرز فکر کے مطابق ذہن سازی کرنا اور اپنے محسنوں کا مفاد آگے بڑھانا ہوتا ہے۔۔۔ انہیں مختلف ادارے جو مختلف سیاسی اور معاشی مفاد رکھتے ہیں بڑی بڑی تنخواہوں پر اپنے اداروں میں رکھتے ہیں اور ایک طرف جہاں یہ اس پلیٹ فارم کی بدولت کماتے ہیں وہین سیٹھ بھی ان کی موجودگی سے فائیدے اٹھاتے ہیں۔۔۔

گلوبلاآئزیشن کے اس دور میں عالمی و قومی سرمایہ دار ، حکمران اشرافیہ چالاک ہو گئی ہے۔۔۔ انہیں جب لگاکہ لوگ میڈیا گیمز سمجھنے لگےہیں تو سوشل میڈیا کو فروغ دیا گیا ۔۔۔ سوشل میڈیا ایک طرف انٹیلی جنس معلومات کے حصول میں مدد گار ہے تو دوسری طرف اس کے ذریعے با آسانی ذہن سازی کی جا سکتی ہے۔۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا صارفین کے رجہانات پر بھی چیک رکھا جا سکتا ہے جو با وقت ضرورت سوشل انجینئرنگ کے لیئے مددگار ثابت ہوتا ہے۔۔ عوام کے ذہنون میں یہ بات بیٹھا دی گئی ہے کہ اخبار ، ریڈیو اور ٹی وی خبرین چھپا سکتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر کچھ نہیں چھپایا جا سکتا۔۔ اور یہی وہ میڈیم ہے جہاں دنیا بھر کے ساتھ آپ اپنی سوچ شیئر کر سکتے ہیں ۔۔
اس خیال کے فروغ کے ذریعے عوام کے ساتھ وہی فراڈ کیا گیا جو جمہوریت کے نام پر عالمی و قومی اشرافیہ اور سرمایہ دار جمہور کے ساتھ کرتا آیا ہے۔۔۔
آج دنیا بھر کی حکومتون ، سیاسی و مذہبی جماعتوں، ٹی وی چینلز ، اخبارات اور مختلف نظریاتی گروپس نے سوشل میڈیا ٹیمز بنا رکھی ہیں۔۔۔ یہ ٹیمیں مخصوص پراپوگینڈا اپنے اور درجنوں جعلی اکاونٹس کے ذریعے سوشل میڈیا پر پھینکتی ہیں۔۔ لائیکس اور ری ٹویٹس ، چیٹ فورمز کے ذریعے غلط معلومات اور نظریات عوام تک پہنچائے جاتے ہیں ۔۔۔ اور اُن کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔۔۔
پھراشرافیہ، چینل و میڈیا مالکان ، صحافی اور سوشل میڈیا ٹیمز کا ایک ایسا ٹرایکا سامنے آتا ہے جو عوامی ذہن کنٹرول کرتا ہے۔۔۔ جمہور لا شعوری توڑ پر میڈیا اور سوشل میڈیا کے ریمورٹ کنٹرول سے کنٹرول ہو رہے ہوتے ہیں اور اس تمام عرصے میں اس حقیقت سے لا علم رہتے ہیں ۔۔۔
اس دور میں جنگون کے طریقے بھی بدل گئے ہیں۔۔۔ جنگ میں
Indirect approach
کوئی نیا نظریہ نہیں اس نظریے کے
مطابق دشمن کی لائین آف سپلائی اور کمیونی کیشن کاٹ کر دشمن کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔۔ اس کا فائیدہ حملہ آور کو کم ا سے کم جانی ، مالی اور وقت کا ضیاع کی صورت میں ہوتا ہے۔۔ ۔انفورمیشن وار کے ذریعے بغیر کسی طاقت کے استعمال کے تعزیراتی مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں۔۔۔
اس طریقے کوففتھ جنریشن وار کا نام بھی دیا گیا ہے۔۔ اس جنگ میں سوشل میڈیا کے ذریعے
ڈس انفورمیشن پھیلائی جاتی ہے اور مخالف ریاست میں اختلافات اور غلط فہمیوں کو ہوا دی جاتی ہے۔۔۔ فرکہ وارانہ اور نسلی تعصب بڑھایا جاتا ہے۔۔۔ سیاسی اور نظریاتی کشیدگی کو ہوا دی جاتی ہے اور عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے پیدا کیئے جاتے ہیں۔۔۔
اس کا اثر یہ ہوتا ہے ۔۔ عوام نا جانتے ہوئے خود اپنی ریاست کو نقصان پہنچاتی ہے۔۔۔ پھر نفرت اور عدم اعتبار کے جراثیم ریاست کو اندر سے اتنا کھوکھلا کر دیتے ہیں کہ دشمن حملہ آور کی جانب سے دیا گیا ہلکہ سا دھکا ریاست کو اوندھے منہ گرا دیتا ہے۔۔۔
اس سلسلے میں شام کی مثال سامنے ہے۔۔ جہاں ریاست اور عوام کے درمیان چھوٹے موٹے اختلافات کو ایسے بڑھایا گیا کہ چند ہی سالوں میں ایک خوشحال ملک ایک تباہ حال ملک بن گیا۔۔۔ ریاست اور عوام کے درمیان خانہ جنگی نے وہ کام کر دیکھایا جوتمام مخالفین بھی نا کر پاتے۔۔۔

دو ہزار گیارہ سے اس جنگی حکمت عملی کو امریکہ اور اس کے اتحادی، سیاسی آڈر کی تبدیلی کے لیئے استعمال کر رہے ہیں ۔۔ عرب سپرنگ میں اسی طریقے سے افریقہ میں جہاں امریکہ کے حق میں سیاسی آڈر بچایا گیا وہیں معمر قزافی جیسی رکاوٹین ختم کر کے تعزیراتی مفادات حاصل کیئے گئے۔۔۔

آج یہی ففتھ جنریشن کی سٹریٹیجی پاکستان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔۔ بد قسمتی سے عوام کے درمیان سیاسی ، سماجی اور معاشی عدم اعتماد کو اتنی ہوا دے دی گئی ہے ۔۔کہ لوگ اس بات پر توجہ نہیں کر رہے کہ وہ کن کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔۔وقت کی ضرورت خطرے کو سمجھ کر اس سے نپٹنے کی حکمت عملی بنانا ہے ۔۔ ہر پاکستانی کو اپنے ملک کا فوجی بننا ہے تا کہ دشمن کے منصوبے ناکام ہوں اور ہماری یہ چھت صدا قائم رہے اور مضبوط ہو۔۔۔

مصنف نجی چینل میں سینئر ریسرچر ہیں اور سٹریٹیجک اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتے ہیں ۔۔

Comments
Loading...