ریحام خان سے ڈرتے ہو؟

ملک کو بہت سے داخلی و خارجی مسائل درپیش ہیں مگر میڈیا کی توجہ صرف بڑی شخصیات کی نجی زندگیوں پر ہی مرکوز ہے۔ عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کی کتاب کے مبینہ مندرجات پر جاری شور شرابہ اس کی نمایاں مثال ہے۔کتاب میں لکھی باتیں سامنے آنے پر تحریک انصاف کے رہنماؤں کا غم و غصہ دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے رہنما کو ولیم کونگریو کے ڈرامے ‘دی مارننگ اینڈ دی برائیڈ’ کی ان سطروں کے معنی معلوم ہو چکے ہیں:’محبت سے نفرت میں تبدیل ہونے والے غصے کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا اور بے عزت کی گئی عورت کے غیض وغضب کا سامنا بھی کوئی نہیں کر سکتا’گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پی ٹی آئی کے ایک حامی اور ریحام خان کے درمیان ای میل اور واٹس ایپ پر پیغامات کے تبادلوں سے بھرا ہوا ہے۔دیکھا جائے تو عام طور پر کوئی رشتہ دو افراد کے درمیان ایک نجی معاملہ ہوتا ہے اور اس پر میڈیا میں گرما گرم بحثیں نہیں ہونی چاہیئں۔ مگر 24 گھنٹے ساتوں دن چلنے والے میڈیا کے دور میں جہاں ہر وقت ریٹنگ کی جنگ چھڑی ہوئی ہو، وہاں عمران خان اگر یہ سوچیں کہ پرائیویسی ان کا حق ہے، تو یہ ان کی بچگانہ خواہش ہی کہلائے گی۔تحریک انصاف کا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ ریحام خان کی کتاب انتخابات سے عین پہلے شائع ہوگی اور عمران خان کے لیے شرمندگی اور ووٹوں میں کمی کا سبب بنے گی۔مجھے لگتا ہے کہ ایسا سوچنے والے غلطی پر ہیں کیونکہ خواتین کے معاملے میں عمران خان کی شہرت سے سببھی واقف ہیں اور ایسی باتوں سے ان کے تشخص اور ان مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ مگر پارٹی اور اس کے لیڈر کی شخصیت کے بارے میں کسی بھی تاریک پہلو کی تفصیلات سامنے آنے سے پی ٹی آئی کے مخالفین کو انتخابی مہم کے دوران کافی مواد مل جائے گا۔ایک مشہور قانونی فرم کی جانب سے ریحام خان کو ہتکِ عزت کا نوٹس بھجوایا گیا ہے جس سے فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہو گا۔ مبصرین کے مطابق قانونی پیچیدگیاں ہتکِ عزت کے دعوے کو عدالت تک پہنچنے سے روک سکتی ہیں۔ لیک ہونے والے قانونی نوٹس اور اس سے شروع ہونے والے میڈیا طوفان کا حوالہ دیتے ہوئے ریحام خان کے وکلا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہتک عزت کا دعویٰ کرنے والوں کے پاس اپنا دفاع کرنے کے لیے معقول وقت موجود تھا۔ مزید براں اس دعوے کے مکمل اخراجات 15 لاکھ پاؤنڈز تک ہو سکتے ہیں۔مگت سوال یہ ہے کہ ہم اس غیر ضروری معاملے کی فکر کیوں کریں؟ سنسنی خیزی سے ہٹ کر دیکھا جائے تو کیا یہ معاملہ اتنی توجہ کا مستحق ہے جتنی اسے مل رہی ہے؟ کسی مثالی دنیا میں تو ایسا نہیں ہو گا مگر دنیا بھر میں کسی بھی سابقہ جوڑے کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات شہ سرخیوں کی زینت بنتے ہیں اور میڈیا میں چہ مگوئیوں کو جنم دیتے ہیں۔ایک اور بات یہ کہ اگر نواز شریف اور آصف زرداری جیسے سیاستدانوں کو عدالت لے جایا اور میڈیا ٹرائل کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو عمران خان کی زندگی کی جانچ پڑتال کیوں نہیں کی جا سکتی؟میں ان میں کسی بھی سیاست دان کا پرستار نہیں ہوں مگر مجھے پسند ہو یا نہ ہو، میرے سامنے انتخاب کے لیے یہی لوگ موجود ہیں۔ ووٹ دینے سے پہلے میں ان سب کے بارے میں جتنا ہو سکے جاننا چاہوں گا۔ شریف اور زرداری دونوں کی بے حد جانچ پڑتال ہو چکی ہے اور اس میں ناانصافی کا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر چونکہ عمران خان کو ابھی اقتدار میں آنا ہے اس لیے وہ میڈیا کے حالیہ طوفان کی زد میں ہیں۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات فواد چودھری نے ریحام خان کی خود نوشت کو ‘پاکستان کی خاندانی اقدار’ کے خلاف قرار دیا ہے۔اچھا تو یہ اقدار کیا ہیں؟ کیا ان میں بیوی کا بحیثیت باورچی، آیا اور گھر میں بند ایسی شخصیت کے طور پر کردار متعین ہے جو کبھی مڑ کر جواب نہیں دیتی؟اگر عمران خان کو ایسی ہی خاتون اپنی اہلیہ کے طور پر چاہیے تھیں تو تو پھر انہوں نے غلط خاتون کا انتخاب کیا۔ریحام خان ایک باہمت، ذہین اور خود مختار خاتون کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ کئی دیگر خواتین ایسی ہیں جنہوں نے اپنے سابقہ شوہروں کے بارے میں غصے سے بھری کتابیں لکھی ہیں۔ تہمینہ درانی کی کتاب ‘مائی فیوڈل لارڈ’ غلام مصطفیٰ کھر سے ان کی شادی کے تلخ تجربات پر مبنی ہے۔کھر ایک استحصالی شوہر کے طور پر سامنے آئے مگر ان کا پرتشدد رویہ سامنے آنے کے باوجود انہیں سماجی و سیاسی طور پر کوئی نقصان نہیں ہوا۔ایسا لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تحکمانہ رویہ رکھنے والے مرد کی عزت کی جاتی ہے جبکہ بیوی کے ساتھ عزت اور شفقت سے پیش آنے کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔پاکستان جیسے قدامت پسند اور سماجی طور پر پسماندہ معاشروں میں شادی دو مساوی افراد کے درمیان رشتے کے طور پر نہیں دیکھی جاتی۔ چنانچہ اس طرح کے غیر مساوی تعلق میں خواتین سے اکثر امید کی جاتی ہے کہ وہ گھروں تک محدود رہ کر زندگی گزاریں اور راضی رہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ خواتین کو اس کردار میں بچپن سے ہی ڈھالا جاتا ہے اور ہمیشہ بھائیوں کو ان پر فوقیت دی جاتی ہے۔ جب ان کے والدین کی پسند کے مرد سے ان کی شادی ہوجاتی ہے تو انہیں کہا جاتا ہے کہ طلاق کے بارے میں سوچنا بھی منع ہے۔

Source Daily Times
Comments
Loading...