رمضان:عبادت سے مڈل کلاس کا فیسٹیول بننے تک

تحریر ارسلان حیدر ارڑ

ستر کی دہائی کا اوائل میرا زمانہ طالب علمی تھا۔تب  بھی رمضان کی آمد کی سب سے زیادہ خوشی ٹین ایجرز کو ہوتی تھی۔ ہرطبقے رمضان سے منسوب عبادت کا احساس ایک جیسا تھا۔اس وقت روزہ دار اور روزہ خور کے درمیان نفرت کی خلیج حائل نہ تھی۔

بطور سٹوڈنٹ میرے مشاہدے کے مطابق کلاس میں روزہ دار ہونے پر کوئی نہ اتراتا۔ پہلے روزے سے چائے خانے، ہوٹل، ریسٹورنٹس اور اشیا خورد و نوش فروخت کرنے والی دکانیں اپنے اطراف میں قناتوں کا پردہ کرکے کھانے پینے کی سروس معمول کے مطابق فراہم کرتی رہتی تھیں۔

سحری و افطاری میں کھانا پینا انتہائی سادہ ہوتا۔اکثر گھروں میں سحری میں دیسی یا بناسپتی گھر کا پراٹھا دہی یا سالن کے ساتھ کھا کر لسی یا چائے نوشی کرلی جاتی۔افطاری میں کھجور یا نمک کے ساتھ لال بوتل والا دودھ سوڈا یا شربت اور پھر نماز کے بعد معمول کا کھانا کھا لیا جاتا۔

سادگی کے اس ماحول میں روزہ دار حقیقی معنوں روحانی تسکین حاصل کرتے اور روزہ کے اغراض و مقاصد پورے کرتے دکھائی دیتے۔

اشیائے خور و نوش میں سادگی کی بنا پر رمضان میں گھر کے بجٹ پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ پڑتا۔بازار میں قیمتوں کا گراف آج کی طرح بلند ترین سطح پر نہ پہنچتا۔

شہر کی سماجی و ثقافتی زندگی میں کسی قسم کی تبدیلی نہ آتی۔دفاتر میں کام معمول کے مطابق کیے جاتے اور سرکاری یا غیر سرکاری کاموں کو رمضان کا جواز بنا کر التوا کا شکار نہ کیا جاتا تھا۔

روزمرہ سرگرمیوں میں روزہ دار کی طرف سے روزہ خور پر برتری کا احساس نہ جتایا جاتا تھا نہ ہی روزہ خور پر انفرادی یا اجتمائی طور پر کھانے پینے کی جبری پابندی کا اطلاق کیا جاتا۔

سرکاری طور پر احترام رمضان آرڈینینس موجود نہیں تھا تاہم عوام الناس از خود رمضان کے تقدس کا دلی طور پر احترام کرتے تھے۔

روزہ خوروں کی طرف سے اپنے روزہ دار ساتھیوں کو زیادہ سے زیادہ آسانیاں فراہم کرنے کا رضا کارانہ جذبہ شہری زندگی کا معمول تھا۔

سنیما ہالز میں فلموں کی نمائش کا سلسلہ جاری رہتا اور معمول کے مطابق روزانہ تین شو اور اتوار کو چار شو دکھائے جاتے۔پہلے شو کا انٹرول افطاری کے وقت کیا جاتا۔

رمضان میں نئی فلموں کو ریلیز نہیں کیا جاتا تھا تاہم ان دنوں فلم بینوں کی طرف سے ماضی کی یادگار فلموں کی بھر پور پذیرائی کی جاتی تھی۔

روزہ خوروں کے ساتھ کسی بھی طرح کی نفرت کا اظہار نہیں کیا جاتا تھا۔ مساجد میں نمازیوں کی تعداد میں غیر معمولی رش نہیں ہوتا تھا البتہ نمازیوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہو جاتا تھا۔عبادات کی ادائیگی کی نمائش نہیں کی جاتی تھی کیونکہ سماجی طور پر اپنے آپ کو دوسرے سے زیادہ عبادت گزار ثابت کرنے کا رجحان فروغ پذیر نہیں ہوا تھا۔

سحری سے قبل شہریوں کو جگانے کے لیے بہت سی پیشہ وارانہ ٹیمیں ڈھول بجاتے گلیوں میں نظر آتیں۔خالی ٹین کا ڈبہ ( پیپا ) بجا کر جگانے والے بھی گلی کوچوں میں گھومتے۔

ٹی وی بہت کم گھروں میں ہوتا تھا اس لیے سحری کا وقت ختم ہونے اور افطاری کا اعلان علاقے کی کسی سرکاری بلڈنگ میں نصب سائرن کو بجا کر کیا جاتا تھا۔

روزہ افطار ہونے کے پانچ سے دس منٹ بعد مساجد میں اذان ہوتی تھی۔نماز و تراویح کی ادائیگی کے بعد شہری بہت جلد سو جاتے۔

یاد رہے متذکرہ دور شہید بھٹو کی عوامی حکومت کا تھا مگر جیسے ہی ملک میں ضیاء آمریت کا دور شروع ہوا درج بالا کلچر کو ختم کرنے کے لیے احترام رمضان آرڈینینس نافد کر دیا گیا۔کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والوں اور سر عام کھانے پینے والے شہریوں کو کوڑوں، جرمانوں اور قید کی سزائیں ہونے لگیں۔

سرکاری طور پر احترام رمضان کو مقدس ترین عمل بنا کر اس پر عمل پیرا ہونے کی تشہیر ہوتی تھی۔ ہرتعلیمی ادارے اور سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں جبری طور پر با جماعت نماز پڑھائی جانے لگی۔

روزہ خور سے نفرت اور روزہ کی نمائش کا رجحان فروغ پانے لگا۔اشیا خورو نوش میں سادگی کی بجائے نمائش و عیاشی در آنے کے ساتھ ان کی قلت ہونے لگی اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہونے لگا۔

ضیا دور کے جبری رمضان کلچرکو مڈل کلاس نے گزشتہ چار دہائیوں میں بہت زیادہ پرموٹ کیا جو آج عروج پر ہے۔

رمضان سادگی سے عبادت کی ادائیگی والے مبارک مہینے کی بجائے 30 دنوں کا ایسا فیسٹیول بن ہے جس میں مڈل کلاس کو اپنی عبادت، سخاوت، نیک دلی اور مذہب سے لگاؤ دکھانے کے ساتھ دولت کی بے پناہ نمائش کا بھی موقع ملتا ہے۔

Comments
Loading...