دنیا کے کچھ عجیب و غریب واقعات۔

اس کائنات کے خالق و مالک الله تبارک و تعالیٰ نے اس دنیا کی تخلیق، اس کا نظام اور اس میں موجود اشرف المخلوقات کا نظام انتہائی باریکیوں سے بنایا ہے۔۔ اس میں اکثرو بیشتر ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جس میں الله کی ایسی حکمتیں اور راز ہوتے ہیں جو انسانوں کی ظاہری آنکھ اورعقل سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔۔

اگرچہ معجزات اور انبیاء کی آمد کا سلسلہ تو ہمارے آخری نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کے بعد ہی ختم ہو چکا تھا۔۔ لیکن اب بھی الله کی قدرت سے ایسے واقعات کا رونما ہونا جاری ہے جو انسانی عقل کی سمجھ بوجھ سے بہت دور ہوتے ہیں۔ اگرچہ لوگوں کی اپنی سوچ اور Facts And Figures پر ان کے نظریات مبنی ہوتے ہیں ایک طرف بہت سے توہم پرست لوگ ایسے واقعات کو مذہبی رنگ دے دیتے ہیں جن کے نتیجے میں معاشرے میں غلط نظریات و بدعات جنم لیتی ہیں – تو دوسری طرف ملحد قسم کے لوگ اپنے ناقص عقل اور تنگ نظری کو بروے کار لا کر ان واقعات کی مختلف سائنسی توجیہات پیش کرتے رہتے ہیں – لیکن کوئی بھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتا۔۔

یہ انسان نہیں بلکہ یہ اللہ کی ذات جانتی کہ ان کی اصل حقیقت کیا ہے – یہاں انہی میں سے کچھ ایسے واقعات جو پھچلی چند صدیوں یا سالوں میں پیش آے ان کا ذکر کیا گیا ہے – اب یہ لوگوں پر ہے کہ وہ اس کی کیا توجیحات پیش کرتے ہیں- ان کا خود پر اچھا یا برا اثر ڈالتے ہیں۔۔ آئیے ایسے ہی کچھ عجیب و غریب واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔۔۔

1) ایک حیرت انگیز واقعہ تھا کہ ویدانتیوں میں وجدان کی قوتیں اور۔Powers حاصل کرنے کے لئے اپنا سانس روکنے کا ایک طریقه اختیار کیا جاتا ہے- 1837ء میں لاہور جب اس وقت ہندوستان کے علاقے میں موجود تھا اس میں رنجیت سنگھ نام کے ایک شخص کی حکمرانی تھی۔ یہاں ایک یوگی تھا جس کا نام ہری داس تھا -رنجیت سنگھ کے حکم پر اس ہری داس کے ناک اور منہ ، اور آنکھوں پر موم لگا کر ان وقتوں میں اور کفن میں اچھی طرح لپیٹ کر اس کو ایک قبر میں دفن کردیا گیا تھا۔ اور قبر کے گرد سپاہیوں کا پہرہ لگا دیا گیا تھا۔ جن کا کام ہر وقت وہاں موجود رہنا اور قبر کی نگرانی اور حفاظت کرنا تھا۔ تقریبا چالیس دنوں سے زائد تک انھوں نے یہ کام سر انجام دیا – چالیس دن گزرنے کے بعد جب اس ہری داس نامی شخص کی قبر کھودی گئی اور اس کو نکال کر کفن ہٹایا اور اس کے منہ، ناک اور آنکھوں سے موم صاف کیا گیا تو ہری داس اچانک ہی سانس لے کر اٹھ بیٹھا – وہاں پر موجود لوگ یہ دیکھ کر ششرد رہ گئے – سائنس کہتی ہے کہ چاہے کوئی کتنی ہی سائنس روکنے کی مشق کر لے- ایک انسان زیادہ سے زیادہ ٢٠ گھنٹے اپنا سانس روک سکتا ہے اور یہ بھی کہ اس سے زیادہ سانس نہیں روکا جا سکتا۔۔ مگر یہ واقعہ دیکھا گیا اور دیکھنے والوں کی گواہیاں بھی تاریخ میں نظر آتی ہیں آور اس کے ہونے عمل کے مقصد سے ہم بے خبر ہیں۔

2) ایک اور واقعہ کہ کہا جاتا ہے کہ بھارت امرہویہ میں شاہ ولایت نامی بزرگ کا مزار موجود ہے۔ اس مزار کے ارد گرد بڑی تعداد میں زہریلے بچھو پاے جاتے ہیں- لیکن یہ بچھو حیرت انگیز طور پر وہاں پر آنے والے زائرین کو نہیں کاٹتے- اگر کوئی ان بچھوں کو اپنی ہتھیلی پر اٹھا لے تب بھی یہ اس زائر کو کچھ نہیں کہتے- حتّی کہ اگر کوئی باہر سے زہریلا بچھو اٹھا لائے اور مزار پر چھوڑ دے – تووہ بچھو بھی کسی کو نہیں کاٹتا۔۔ یہ اس مزار کی کوئی خاص بات ہے ہا پھر اس کے پیچھے خدا تعالی کی کوئی حکمت ہے یہ ہم نہیں جانتے۔۔۔

یہ بات بھی ذکر کے قابل ہے کہ کہا جاتا ہے کہ غیر مسلموں میں بھی چند ایک ایسے واقعات سننے کو ملے ہیں کہ ان کی لاشیں عرصۂ دراز بعد قبروں سے نکالی گئیں تو وہ محفوظ ہی ملیں جیسے جس حال میں ان کو دفنایا گیا۔۔ بدنام زمانہ شاعر لارڈ بیزان کی لاش طویل عرصے بعد قبر سے نکالی گئی لیکن وہ بلکل محفوظ تھی۔۔

فرانس کی مشہور راہبہ ربان کیتھرین کی لاش اس کے مرنے کا ٥٦ سال بعد قبر سے نکالی گئی تو حیرت انگیز طور پر ان کی لاش سہی سلامت ویسے ہی قبر میں موجود تھی۔۔

اس کے علاوہ بھی دنیا میں ایسے حیرت انگیز وا قیعات واقتاً فواقتاً کرار پاتے ہیں کہ جن کی عقلی دلیل انسان کے بس کی بات نہیں- یہ الله رب العزت کی قدرت کاملہ اور مشیت ہے اور اس کے راز وہی جانتا ہے۔۔ بے شک۔۔۔

Comments
Loading...