خالی آسامیوں کی منظوری پر نئے بھرتیوں کی منظوری تمام محکموں کو فوری طور پر بھرتی کے عمل کا آغاز کرنے کی ہدایت

بھرتیاں خالصتاً میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر کی جائیں گی۔ نگران دور حکومت میں کی گئی بھرتیوں کا جائزہ لینے کے لئے قائم کابینہ کی سب کمیٹی کی جانب سے رپورٹ بھی پیش کی گئی۔صوبے کے اپنے محاصل میں اضافے کے ذریعہ خود انحصاری کے حصول کو ناگزیر قراردیتے ہوئے بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی استعداد کار میں اضافے کے لئے ریونیو اتھارٹی ترمیمی بل 2018ء اور خدمات کی فراہمی پر عائد بلوچستان سیلز ٹیکس ترمیمی بل 2018 ء کی منظوری دی گئی۔ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے قواعد میں بعض اہم ترامیم کی منظوری جس کے تحت کمیشن کے اراکین کی تعداد بمعہ چیئرمین بارہ ہوگی جن میں کم از کم دو خواتین بھی شامل ہوں گی۔ اراکین میں پچاس فیصد گریڈ 20 یا اس سے زیادہ کے گریڈ میں ریٹائر ہونے والے انتظامی سیکریٹری اور ریٹائرڈ جج جبکہ دیگر پچاس فیصد میں نجی اور سرکاری شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، ریٹائرڈ ماہرین تعلیم اور دیگر شعبوں کے ماہرین جو مقررہ معیار پر پورے اترتے ہوں شامل ہوں گے۔ کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کی تعیناتی کے لئے چیف سیکرٹری بلوچستان کی سربراہی میں سلیکشن بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو ہر رکن کی تعیناتی کے لئے تین امیدواروں کا پینل وزیراعلیٰ کو بھجوائے گااور وزیراعلیٰ کی سفارش پر گورنر بلوچستان چیئرمین اور اراکین کی تعیناتی کی منظوری دیں گے۔ اراکین میں صوبے کے تمام ڈویژن کی نمائندگی شامل ہوگی۔ ان ترامیم کا مقصد بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی اور افادیت میں اضافہ کرنا ہے۔غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے لینڈ لیز پالیسی کی منظوری اور بیرونی سرمایہ کاروں کو کسی بھی منصوبے کے لئے درکار اراضی صرف اجارہ کی بنیادپر دینے کی منظوری جبکہ مذکورہ اراضی کے مالکانہ حقوق حکومت، پاکستان شہری، کمپنی اور حاکم مجاز کے پاس رہیں گے۔صوبے کے ساحلی علاقوں میں ماہی گیروں کے لئے لینڈنگ سائٹس کے قیام کی منظوری اور محکمہ معدنیات کو مائنز اونرز کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے کانکنوں کی فلاح وبہبود، معاوضوں، طبی ودیگر سہولیات کی فراہمی اور ان کے حفاظتی اقدامات جیسے امور میں مائنز اونرز کے تعاون کے حصول کی ہدایت کی۔مائنز لیبر ویلفیئر فنڈ میں اضافہ کی ضرورت سے بھی اتفاق اور اس کے علاوہ بلوچستان بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قیام۔ بلوچستان لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کی اصولی طور پر منظوری ،۔سنجاوی یونین کونسل کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دینے کی منظوری ، گوادر ، پسنی، جیونی اور ملحقہ علاقوں کو ٹینکروں کے ذریعہ پانی کی فراہمی کی مد میں واجبات کے اجراء کی منظوری جبکہ دو ملین گیلن کی استعداد کے کارواٹ ڈی سیلینیشن پلانٹ کی فعالی کے لئے ایف ڈبلیو کے ساتھ معاہدے کی اصولی طور پر منظوری۔بلوچستان واسا کو واسا بورڈ کا اجلاس جلد منعقد کرکے واسا کے حل طلب امور کو نمٹانے کی ہدایت، بلوچستان سول سرونٹس (اپیل) رولز 2013ء میں ترمیم کی منظوری جس کے تحت سرکاری ملازمین کو پروموشن کے حوالے سے اپیل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم کی روشنی میں چیف سیکریٹری بلوچستان کی سربراہی میں کمیٹی کی تشکیل کی منظوری جو سینئر پوسٹو ں پر جونیئر افسروں کی تعیناتی اور تعیناتی کی مدت کی تکمیل سے پہلے افسروں کی ٹرانسفر کے کیسوں کا جائزہ لے گی۔کابینہ نے حکومت بلوچستان رولز آف بزنس 2012ء کے تحت اسپیشل اسسٹنٹ برائے چیف منسٹر کے دائرہ اختیار کی مدت تعین کی منظوری۔بلوچستان سول کورٹس آرڈیننس 19ئ کے تحت پشین اور قلعہ عبداللہ کی سول عدالتوں کے حدود کے تعین کے نوٹیفکیشن کی اجراء کی منظوری اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبے کو حاصل اختیارات کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لاکر صوبے کے حقوق ومفادات اور وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانے پر اتفاق۔۔!!

Comments
Loading...