حیوانیت کی مثال ، سانحہ ساہیوال

جیسے کے ہم سب جانتے ہیں کہ 19 جنوری کی غم بھری سہہ پہر میں سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔۔۔

جس کے نتیجے میں میاں بیوی اور ان کی ایک بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے اور اس کے علاوہ کارروائی میں تین بچے بھی زخمی ہوئے تھے۔۔۔

ہنستا کھیلتا خاندان ان کے باپ پر دہشت گردی کے الزام کی وجہ سے سی ٹی ڈی کی ذد میں آگیا۔ گاڑی میں موجود افراد اور معصوم بچے بورےوالا میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے جا رہے تھے۔۔۔

اس افسوس ناک واقعہ کا بعد میں یہ ردعمل نکلا کہ وزیراعظم اور وزیراعلی کے استعفے کا مطالبہ کیا جانے لگا جس میں سب سے بڑا ہاتھ ن لیگ کا تھا۔۔۔

اس افسوس ناک واقعہ اور معصوم کے قتل پر آواز بلند کی گئی۔ مقتولین کے علاقے میں ہڑتال بھی جاری رہی اور ٹریفک کا نظام بھی بند کیا گیا اور انصاف کا مطالبہ کیا جانے لگا۔۔۔

رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ:
”سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ آنکھوں میں دھول دھونکنے کے برابر ہے، غیر جانبدار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں اور اگر بے گناہ ثابت ہو جائیں تو عہدوں پر واپس آ جائیں”

”کوئی بھی شخص حکومت کے احمقانہ اور جاہلانہ موقف کو تسلیم نہیں کرسکتا، اس ڈرامے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔۔۔

۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ :

”مزاحمت اور 2 دہشت گردوں کے فرار کا کہا گیا اور خود کش جیکٹس اور اسلحہ ملنے کا بھی کہا گیا، اب جواب دیں کہ وزرا کا یہ موقف ملزمان کو بچانے کی کوشش تھی، اب وہ قوم سے معافی مانگیں۔”

باغی ٹی وی کے مطابقرہنما (ن)لیگ نے کہا کہ :

ذیشان پہلا دہشت گرد ہوگا جس کا تعلق دہشت گردوں سے تین دن سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ابھی تک یہ ذیشان کا تعلق دہشتگردوں سے جوڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔۔۔

اس موقع پر وہاں موجود رانا تنویر حسین نے کہا کہ:
” سانحہ ساہیوال پوری قوم میں بے چینی اور خوف ہے، چند افسران کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا، بہت سے سوالات ابھی تک حل طلب ہیں۔رانا تنویر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا ٹویٹ کچھ اور جب کہ وزرا کا موقف کچھ اور تھا، کل جو ایکشن لیا وہ گونگلوں سے مٹی جھاڑنے والی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف دہشت گرد کہتے تھے دوسری طرف دو کروڑ امداد دیتے ہیں، چند افسران کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا، وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب استعفی دیں۔۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ :

”سپیکر پنجاب اسمبلی کی ہدایت کے مطابق آج جمعرات کے روز ارکان اسمبلی کو ان کیمرہ بریفنگ جبکہ بعدازاں میڈیاکو بھی ان کیمرہ بریفننگ دی جائے گی۔ پہلی بار ہوا کہ کسی حکومت نے 72 گھنٹوں میں تحقیقات مکمل کیں”

باغی ٹی وی کے مطابق زخمی ہونے والے بہن بھائی کو صحت یابی کے بعد لاہور جنرل اسپتال سے ڈسچارج کر کے گھرمنتقل کردیا گیا ہے۔۔۔

اور ان کی کونسلنگ کیلئے خاتون ماہر نفسیات بھی تعینات کر دی گئی۔ انہیں جسمانی طور پر فٹ قرار دے کر گھر بھیجنے کی سفارش کر کے ان کو گھر بھیج دیا گیا۔۔۔

اس کے علاوہ اس واقعہ سے متعلق یہ کہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ بشارت نے کہا کہ :

”جو لوگ قصور وار ہیں ان کے خلاف کارروائی کردی گئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں اس مقدمہ کا چالان جلد از جلد مکمل کرکے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع کروا دیں۔ ”

واقعہ کے اختتام پر وزیراعظم کو سانحہ ساہیوال پر جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی تھی۔۔

وزیراعظم نے مستقبل میں اس قسم کے المناک واقعات سے بچنے کے لئے پنجاب پولیس میں اصلاحات بارے سفارشات طلب کیں۔۔۔

ذرائع کے مطابق سانحہ ساہیوال پر گزشتہ روز وزیراعظم کو رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔ ۔۔یہ رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے بھجوائی گئی تھی۔۔۔

رپورٹ میں متعلقہ افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹائے جانے اور معطل کرنے اور دیگر کارروائی سے آگاہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے پنجاب پولیس میں سفارشات طلب کر لی ہیں جلد اس حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس متوقع ہے۔۔۔

اس کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ:

” نئے پاکستان میں قانون سے تجاوز کرنے والوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور حکومت پنجاب انصاف کے وعدے کے ساتھ کھڑی ہے۔۔۔”

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ:

” سب سن لیں، قانون، میرٹ اور انصاف کی فراہمی ہماری ترجیح ہے اور قانون کی بالادستی عمران خان کی حکومت کا پہلے دن سے وعدہ ہے۔”

Comments
Loading...