حوا کی بیٹی کو پھر سے درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔

شہر لاہور کے علاقے جلو موڑ میں دو خواتین پر چوری کے الزام کے باعث بری طرح تشدد

انسانیت کی قدر کرنا بھی انسانی فریضوں میں سے ایک ہے۔ اور جس طرح سے ہمارے خالق حقیقی نے یہ دنیا اور انسانوں کی تخلیق بھی محبت اور بھائی چارے کی بنیاد پر کی۔ پر انسان زندگی کی دوڑ اور دنیاوی خواہشات کی دوڑ میں اخلاقیات اور ان باتوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ حال ہی میں ”پاک سر زمین”‘ کے شہر لاہور میں دو خواتین کا واقعہ پیش آیا۔ جس میں ہمیں مرد ذات میں درندگی کی مثال ملتی نظر آ رہی ہے۔ لاہور میں دو خواتین پر چوری جیسے سنگین الزامات لگا کر ان کو بری طرح سے مارا پیٹا گیا اور کوئی بھی ان کو روک نہ پایا۔

ِ لاہور کے نواحی علاقے جلو موڑ میں کپڑے کی دکان سے چوری کے الزام میں پکڑی گئی 2 خواتین کو دکان داروں نے ڈنڈوں، لاتوں، مکوں اور تھپڑوں کی بارش کر کے بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔
میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے مطابق لاہور میں کپڑوں کی ایک دکان پر دو خواتین پر بد ترین تشدد کرنے والے دونوں ملزمان جن کا نام عدنان اور اعجاز تھا ان کو گرفتار کر لیا گیا ہے،اور اب پولیس کی گرفتاری میں ہیں اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

یہی نہیں آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور پاکستان کی ہی عورتوں پر تشدد کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ماضی کے چار برسوں کی نسبت ایسے واقعات کی تعداد زیادہ زور پکڑتی جا رہی ہے۔

ہمارا ملک جس کا مطلب ہے ”لا الہ الا اللہ”‘ اور ہم خدا تعالی کے پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی امت جنہیں ہمارے لیے اسوہ حسنہ بنا کر بھیجا گیا تھا۔ جن کی تعلیمات میں ہمیں دوسروں کی عزت و احترام کا سبق ملتا ہے۔ ان ہی کے امتی انسان ہونے کی اتنی بد ترین مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کے حقوق بیان کئے ہیں اور دونوں کا مقام اپنی اپنی جگہ متعین کیا ہے لیکن آج کے اس ترقی یافتہ دور میں عورتوں پر تشدد کے واقعات میں کمی نہیں آ رہی ہے ۔ عورتوں کو دن بدن کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے عورتوں کی زندگی میں کافی مسائل درپیش ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ کبھی سسرالیوں کی طرف و کبھی خاوند کی طرف سے باز پر تشدد کیا جاتا ہے۔

‘پنجاب کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن’ کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق 2016ء میں صوبے میں خواتین کے خلاف تشدد کے 7313 واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ 2015ء میں یہ تعداد 6505 اور 2014ء میں 5967 تھی

وائرل ہونے والی ویڈیو میں تشدد کرتے نظر آنے والوں میں ایک کبڈی فیڈریشن کا اعجاز مناواں بھی شامل ہے، جسے وزیر، اعلیٰ پنجاب کے آرڈرز پر فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ مناسبت طریقہ تو یہی تھا کہ مبینہ چور خواتین کو وویمن پولیس کے حوالے کر دیاجاتا۔ یہ تو کسی طور بھی گوارا نہیں کہ کوئی چور، قاتل، ڈکیٹ پکڑا جائے اور دکاندار یا عام شہری خود ہی اس کی پٹائی کرکے اسے چھوڑ دیں۔

اصل چیز ہمارے معاشرے میں انصاف کی کمی ہے۔۔ کیا اس نام نہاد سماجی شخصیت اور کبڈی فیڈریشن کے عہدیدار کو خواتین پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے شرم نہیں آئی؟ تین چار مرد لاٹھیوں، لاتوں اور مکوں سے خواتین کو مار رہے ہیں، گالیاں دے رہے ہیں اور وہ بے چاری مدد کو پکار رہی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ریاست کی مدعیت میں دکانداراور اس کے ساتھیوں کہ ایسے بے حس اور جاہل مردوں کےخلاف سخت سے سخت اقدامات درج کیے جانے چاہیے، کبڈی فیڈریشن کے ظالم عہدیدار کو فی الفور اس کے عہدے سے معطل کر کے آئندہ کسی بھی عوامی و سماجی عہدے کے لئے بین کر دیا جائے۔

عورتوں پر تشدد کی اور بھی بہت سے مقام ہیں مثلا خواتین کی تجارت اعضا کی بریدگی خواتیں کو جلانا خواتین کو سر عام برہنہ کرنا غیرت کے نام پر قتل ملازموں جیسی زیادتی یا اغوا کر کے زیادتی کرنا وغیرہ۔ مگر ان تمام مظالم کی ابتدا گھریلو تشدد سے ہی جنم لیتی ہے۔ہمیں چاہیے کہ اپنی پاک سر زمین سے اس طرح کے واقعات اور لوگوں کو نکال کر نیست و نابود کر دینا چاہئے اور کسی بھی انسان کو یہ حق نہیں ہونا چاہئے کہ خود کسی کو اس کے گناہ کی سزا دینے لگے۔ اس کے لیے قوانین نافذ کئے گئے ہیں اور اگر کوئی ایسا کرے تو اس کے خلاف آواز اٹھانے میں پیچھے نہیں رہنا چاہئے۔

Comments
Loading...