جنوبی کوریا کی سابق صدر کی سزائے قید 24 برس سے بڑھ اکر 32 سال کر دی گئی

جنوبی کوریا کی سابق صدر پارک گُن ہے کو غیر ضروری فنڈز جمع کرنے کہ باعث 6 سال کی سزا سنائی گئی۔ مزید اس کے علاوہ انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے جرم میں 2 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقامی عدالت میں جنوبی کوریا کی سابق صدر پارک گُن ہَے کے خلاف حال ہی میں دو مقدمات کی سماعت ہوئی۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے دونوں مقدمات میں مجموعی طور پر 8 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ جس میں 6 سال قید غیر ضروری فنڈ جمع کرنے کے جرم میں اور 2 سال قید انتخابی عمل میں بیجا مداخلت پر سنائی گئی ہے۔

سماعت کے دوران جنوبی کوریا کی سابق صدر فیصلہ سننے کے لیے موجود نہیں تھیں البتہ عدالت نے ان کی غیر موجودگی میں ہی فیصلہ سنا دیا۔ 8 سال کی مزید قید کی سزا کے بعد اب سابق صدر پارک گن ہے کو اپنی زندگی کے 32 سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے ہوں گے۔ اپنے ایک بیان میں سابق کوریائی صدر نے الزامات اور سزاؤں کو سیاسی مخالفت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی کوریا کی سابق صدر پارک گن ہے کو کرپشن الزمات پر عوامی دباؤ کے پیش نظر سال 2017 میں حکومت سے برطرف کر دیا گیا تھا جس کے بعد اُن پر قائم مقدمات کی سماعت ہوئیں۔ کرپشن الزامات اور حکومتی راز افشاء کرنے پر پارک گُن ہَے کو 24 برس کی سزا سنائی گئی تھی اور آج دو مختلف مقدمات میں سزا کی مدت کو مزید 8 سال بڑھانے کے بعد 32 سال کر دی گئی۔

Comments
Loading...