بحران زدہ میڈیا انڈسٹری میں صحافیوں کو درپیش مسائل

اسلام علیکم صحافی دوستو،

آجکل پاکستان میں میڈیا کے جو حالات جارہے ہیں وہ انہتائی سنگین صورتحال اختیار کرگے ہیں ملک میں حکومت کی عجیب و غریب صورتحال کے باعث میڈیا انڈسٹری اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے بحران سے گزر رہی ہے جس مالکان بھی بری طرح پریشان نظر آرہے ہیں
اور ایک طرف تو ہم سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار صاحب کی مہربانی سے صحافتی کارکنان کی تنخواہیں اور بقایاجات کا کیس لڑ رہے ہیں جس میں الحمد اللہ ہم کافی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں اور اب اس سے بڑی مصبیت ڈاون سائزنگ کی صورت ہمارے سروں پر منڈلاتے نظر آرہی ہے اور ہمارے صحافی ورکرز کے یہ حالات ہیں ہم اپنی جھوٹی انا اور دل کی نفرت میں اپنی علیحدہ علیحدہ یونینز اور نام نہاد تنظیمیں اور وٹس ایپ گروپس میں اور فیس بک پر ایسوسی ایشنز بنائی ہوئی ہیں جس کا کوئی حاصل مقصد نہیں ہے سوائے نفرت کے اور ایک دوسرے گروپ کو نیچا دکھانے کے اور ہم اپنی اپنی دکان اٹھا کر دس دس لوگوں کے ساتھ مظاہرہ کرکے معاشرہ اور صحافتی اداروں کے مالکان کی نظر میں اپنی تزلیل اور مذاق بناتے ہیں اور صحافتی اداروں کے مالکان بھی ہمیں خوب استعمال کرتے آئے ہیں اور ہماری تقسیم پر انہیں نے صحافیوں کے شرائط کے مطابق نہ ہی کھبی تنخواہیں ٹائم پر دی ، اور نہ ہی ویج ایوارڈ بورڈ کے مطابق تنخواہیں بڑھائی ہیں اور نہ کھبی ہیلتھ کارڈ بناکر علاج و معالج کی سہولتیں دینے کا وعدہ پورا کیا گیا ہے چند صحافتی اداروں کے علاوہ باقی اداروں میں ہماری تنخواہیں اور ہیلپرز کی تنخواہوں میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا ہے اور نہ ہمیں اب اداروں میں کنفرم ہونے کے لیٹرز دیئے جارہے ہیں کئی سالوں سے کام کرنے والے صحافتی ورکرز کی تنخواہیں میں سے کٹوتی کرنے کے باوجود علاج و معالج کی کوئی سہولتیں نہیں دی جارہی ہیں بلکہ اولڈ ایج ایوارڈ سمیت دیگر سہولتوں سے بھی ہماری نااتفاقی نے ہمیں محروم رکھا ہوا ہے مالکان نے تو اپنے اربوں روپے کے اثاثے بنالیں اور ہم ورکرز دوست ابھی تک اپنی موٹر بائیکل تک نہیں بنا سکے اور جو ہمارے خاندانی اور وسائل رکھنے والے دوست جرنلزم میں آئے بھی تو انہوں نے بجائے صحافتی ورکرز کی مدد کرنے اور مالکان سے ٹکر لینے مالکان کی ٹاوٹی کرنا پسند کی اور ان سے صحافتی کارکنان کا سودا کیا بلکہ حکومتوں سے صحافتی کارکنان کے نام سے آنے والے فنڈز بھی آپس میں بندر بانٹ کرلی گئی ہیں اور کئی صحافتی لیڈران باقاعدہ ٹھیکے دار، ہاوسنگ سکیموں کے اور عالشیان گھروں، پٹرول پمپوں کے مالک بن گے ہیں اور صحافتی ورکرز کے نام سے آنے والی فنڈنگی سے غیر ملکی دورے کیے جاتے رہے ہیں اور صحافتی اداروں میں ایپنک کے زریعے نگرانی چلنے والی یونینز بھی سوائے چند اداروں کے اب ختم ہوچکی ہیں دوستوں ہم سب کو پچھے تمام واقعات، نفرت اور انا ختم کرکے اب ہو جانا چاہیے اور سب کو اپنے اپنے پلیٹ فارم کو تقسیم کرنے کی بجائے متحد ہوکر الیکشن لڑے چاہیے ایک دوسرے کے مخالف لڑے لیکن ہم سب کو اپنے اپنے پلیٹ فارم کو ایک کرکے فالتوں دکانین بند کرنا ہوگی یہ اب وقت کی ضرورت ہے اگر ایک دوسرے کے جانی دشمن صحافتی مالکان مل کر صحافتی ورکرز کو فارغ کرنے کی ایک پالیسی بنا سکتے ہیں تو ہم اکھٹے ہوکر اپنی یونینز، چاہئے وہ پی ایف یو جے ہوں پی یو جے، پورے پاکستان کے پریس کلبز ہوں، ایمرا ہوں، اینکا ہوں فوٹوگرافر ایسوسی ایشنز ہوں ایپنک ہوں کوئی بھی ہم کو اکھٹے ہونا چاہیں میری اس حوالے سے اعظم چودہری صاحب سے بات ہوئی ہے میری اس حوالے سے رانا محمد عظیم صاحب سے بات ہوئی ہے انہوں نے انتہائی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے فوری طور پر سب سے پہلے فیس بک اور وٹس گروپوں میں ایک ہونے کی دعوت بھی دے دی ہے میری اسلام آباد میں افضل بٹ صاحب سے بات ہوئی ہے انہوں نے بھی مناسب جواب دیا ہے میری اس حوالے سے راجہ ریاض صاحب سے بات ہوئی ہے انہوں نے بھی میری بات سے اتفاق کیا ہے میں آج اپنے تمام گلے شکوے ختم کرکے ارشد انصاری سے بھی بات کروں گا اور ملک اقبال گجر، زاہد شفیع، نوید صدیق، شرجیل ، عاصم نصیر صاحب لالہ ناصر مہمند صاحب اور وحید بٹ صاحب ،رضوان انور صاحب، شوکت علی، عابد خان صاحب بھی بات کروں گا کہ سیاست اپنی اپنی کرین لیکن اتحاد اور اتفاق برقرار رکھے اور صحافتی اداروں کے مالکان اور معاشرے کو اپنی لڑائی نہیں اتفاق اور اتحاد دکھائے مجھے یقین ہیں ہم کامیاب ہونگے
اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہوں آمین ۔۔
شکریہ
آپکا مخلص
محمد آصف بٹ
صدر الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن ایمرا

Comments
Loading...