ایک ماہ میں دوسرا واقعہ: جیپ نے کشمیریوں کو روند ڈالا

انڈیا کے زیرانتطام کشمیر کی تاریخی جامع مسجد کے باہر نیم فوجی ادارہ سی آر پی ایف کی ایک جیپ جب مظاہرین کے بیچ محصور ہوگئی تو جیپ تیز رفتاری کے ساتھ کئی نوجوانوں کو روندھتے ہوئے نکلی جس میں کئی زخمی ہوگئے۔

زخمی ہونے والوں میں 21 سالہ قیصر بٹ بھی تھے جو ہسپتال میں دم توڑ بیٹھے۔

اس واقعہ کے خلاف وادی بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ بظاہر عوامی ردعمل کے خدشہ سے حکام نے سرینگر اور بڈگام اضلاع میں ناکہ بندی کردی ہے اور انٹرنیٹ کو معطل کیا گیا ہے۔

سرینگر کے فتح کدل علاقے کے رہنے والے قیصر بٹ کے والدین فوت ہوچکے ہیں اور اُن کی دو کم سن بہنیں ہیں۔ کئی سال سے یہ تینوں ڈل گیٹ علاقے میں اپنی ماسی کے ہاں قیام پذیر تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ واقع جمعہ کے روز نماز کے بعد اُس وقت رونما ہوا جب نوجوان جامع مسجد کے باہر 25 مئی کو مسجد کے اندر فورسز کی کارروائی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔
گذشتہ ایک ماہ کے دوران یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقع ہے۔ اس سے قبل جامع مسجد کے قریبی علاقہ نورباغ میں بھی پولیس کی گاڑی نے ایک نوجوان کو روند ڈالا تھا۔ جامع مسجد کے باہر یہ واقع ایسے وقت ہوا جب جامع مسجد کی انتظامیہ اور پولیس کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کی رو سے مسجد کے اردگرد پولیس یا سیکورٹی فورسز کو تعینات نہیں کیا جانا تھا اور مسجد انتظامیہ کے رضاکار مظاہرین کو مسجد کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔

پولیس کے اعلیٰ افسر امتیاز اسمعیل نے بتایا کہ ‘مسجد کے باہر یا اندر کوئی اہلکار تعینات نہیں تھا۔ احتجاج پھر بھی ہوا لیکن ہم نے نہایت ضبط سے کام لیا۔’

پولیس کا کہنا ہے کہ جس جیپ کی زد میں آکر نوجوان ہلاک ہوا ہے وہ راستہ بھٹک گئی تھی۔ تاہم سی آر پی ایف کے ترجمان سنجے شرما نے بتایا: ‘ہماری گاڑی میں ایک سینیئر افسر حالات کا جائزہ لینے جارہے تھے۔ جونہی وہ جامع مسجد کے قریب پہنچے تو سینکڑوں مظاہرین نے گاڑی کو دبوچ لیا، انھوں نے افسر کو باہر نکال کر اسے مارنے کی کوشش کی۔

Source BBC
Comments
Loading...