اسٹیورڈ اویس قریشی جہاز میں نہیں جائیں گے کپتان کا اعتراض

پی آئی اے کی لندن جانے والی پرواز میں کپتان اور اسٹیورڈ کے درمیان جھگڑا، کپتان نے سمگلنگ میں ملوث ہونے کے باعث اسٹیورڈ کو لے جانے پر انکار کیا۔

آج پاکستان سے لندن جانے والی فلائٹ میں پی آئی اے کے کپتان انوار چوہدری نے اسٹیورڈ اویس قریشی کے جہاز میں سوار ہونے پر صاف انکار کر دیا۔

تفصیلات اور باغی ٹی وی کے مطابق پی آئی اے کے کپتان انوار چوہدری نے کہا کہ اسٹیورڈ اویس قریشی جہاز میں نہیں جائیں گے کیونکہ وہ لندن پرواز اسمگلنگ کیس میں ملوث رہے ہیں۔ اعتراض پر جہاز کے دیگر عملے نے بھی جانے سے انکار کردیا۔ عملے کے جھگڑے کے باعث پرواز پی کے 757 تین گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی۔

اسٹیورڈ اویس قریشی اور کپتان کی گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس میں اویس قریشی کپتان سے معاملے کو سلجھانے کی بات کرتے دکھائی دئیے مگر کپتان نے ان کی ایک نہ سُنی۔۔اور ان کو یہ معاملہ آفس میں بیٹھ کر سلجھانے کی تلقین کی۔

اویس قریشی نے کہا کہ :
”سر میں آپسے ریکویسٹ نہیں کر سکتا ہوں، آپ انچارج ہیں، کمانڈر ہیں۔ نہیں سر مجھے بتائیں میں نے کیا کیا ہے؟ مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ جی آپ اُتر رہے ہیں فلائٹ سے۔۔آپ سر مجھے ڈائریکٹ کہ دیتے اسطرح سے کوئی بات نہیں۔ میرا ان سے کوئی ہارڈ ٹالک کچھ پرسنل نہیں۔۔آپ without any reason مجھے اتار رہے ہیں۔ میں اپنی Incharge سے بات کر رہا ہوں،، ”

جس پر کپتان انوار چوہدری کا کہنا تھا کہ :
“‘ آپ ضرور آؤ مگر چیف پائلٹ کو لے کر۔ میں آپکو ساتھ لے جانے پر Comfortable نہیں۔ آپ نے دو منٹ پہلے ایک شو کیا، ابھی آپ نے دو منٹ پہلے فلانا کیا۔۔یہ معمالہ آفس کا ہے ہم وہاں بیٹھ کر بات کریں گے۔ ”

اسٹیورڈ کو سوار کرنے کے اعتراض پر جہاز کے باقی کریو نے بھی جانے سے انکار کردیا

جہاز کے عملے کے جھگڑے کے باعث پرواز تین گھنٹے لیٹ رہی اور پرواز ساڑھے نو کی بجائے ساڑھے بارہ بجے لندن کے لیے روانہ ہوئی۔۔

دوسری جانب پی آئی اے کے نئے آن لائن نظام سے پروازوں میں تاخیر معمول بن گئی۔ نئے نظام کو تین دن ہو چکے، پروازوں پر بریفنگ اور بورڈنگ کا عمل نہایت سست ہوگیا۔ پی آئی اے کا عملہ نئے سافٹ ویئر پر مہارت نہیں رکھتا ہے۔ سافٹ ویئر کی وجہ سے جمعے کو 7 جبکہ ہفتے کو 5 پروازیں متاثر ہوئیں۔

Comments
Loading...