اب جو جہیز کیلئے دباﺅ ڈالے گا وہ جیل جائے گا’ بھارتی سپریم کورٹ

جہیز چونکہ ایک لعنت ہے جو کہ آج کی Modern Society کا ایک Norm بن چکی ہے۔ اگرچہ 80 سے 85 فیصد مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد جہیز کے اخراجات اٹھا نہیں پاتے اور ان کی ہنستی کھیلتی زندگیاں اس جہیز کی پریشانی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔۔ اور یہ سنگین مسئلہ نہ کہ صرف ہمارے ملک پاکستان بلکہ دنیا کہ بہت سے ممالک میں ہوتا ہے۔۔

نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق صرف پچھلے سال ہی ہندوستان میں شادی کے وقت دولہا اور اس کے خاندان والوں کی جانب سے جہیز دینے سے متعلق تنازعات میں 8,233 خواتین ہلاک ہوئیں۔۔اور جہیز کی بہت بڑی ریشو ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔۔

اور بیورو کی جانب سے حالیہ ہفتے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، جہیز سے متعلق جرائم میں سزا اور قوانین کی نافذ کردگی کی شرح صرف 32 فیصد ہے۔۔ جو کہ اس کی رسم کو بڑھاتی ہے۔۔

گو کہ ہندوستانی قانون میں جہیز دینا اور لینا منع ہے تاہم صدیوں سے جاری سماجی رسم و رواج جاری ہیں۔ جہیز کے مطالبے اکثر شادی ہونے کے کئی سال بعد تک جاری رہتے ہیں۔ اس ہی کے باعث ہر سال، ہزاروں نوجوان ہندوستانی لڑکیوں کو محض اس لیے پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جاتی ہے کہ وہ مناسب جہیز نہیں لائی۔۔۔

حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے اہم فیصلہ میں کہا ہے کہ جہیز کے لئے دباﺅ ڈالنے کی شکایت درج ہونے کے فوراً بعد متاثرہ خاتون کے شوہر اور ان کے سسرال والوں کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔۔ نئی دہلی میں چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بنچ نے عدالت عظمی کے سابقہ فیصلے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے رشتہ داروں کو ملنے والا قانونی تحفظ ختم کر دیا۔ جہیز کے لئے دباﺅ ڈالنے کی صورت میں فوری طور پر گرفتاری پرپابندی کے خلاف دائر درخواستوں پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ متاثرہ خاتون کے تحفظ کیلئے یہ اقدام ضروری ہے۔۔۔

بنچ نے کہا کہ معاملے کی شکایت کی انکوائری کے لئے خاندانی بہبود کمیٹی کی ضرورت نہیں۔ پولیس کو اگر ضرورت محسوس ہوئی تو وہ ملزم کو فوراً گرفتار کر سکتی ہے۔ ملزمان کے لئے پیشگی ضمانت کا متبادل کھلا ہے۔۔۔

خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم کارکن، رنجنا کماری کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی معاشی ترقی کے بعد جہیز کے مزید مہنگے مطالبے بھی شامل ہو گئے ہیں۔۔

انہوں نے لالچ کے بڑھتے ہوئے کلچر کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ ہندوستان نے غیر ملکی مصنوعات کے لئے اپنی دروازے کھول کر نئی نسل کو ایسی چیزوں کی ہوس میں مبتلا کر دیا ہے جن کے وہ متحمل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ شادیاں بھی ایک دھندہ بن چکی ہیں جہاں ایک کاروبار کی مانند دولہا اور اس کے خاندان والے حد سے زیادہ مطالبات کرتے ہیں۔۔۔

Comments
Loading...