آج دل کی بیماریوں سے آگاہی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کے امراض سے بچاﺅ کا دن منایا جا رہا ہے، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان میں ہر 5واں شخص دل کے عارضہ میں مبتلا ہے،ملک بھر میں دل کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد ہے۔۔۔

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کے امراض سے آگہی کا دن منایا جا رہا ہے،کراچی میں دل کے امراض کے عالمی دن موقع پر سائیکل ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد عوام میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔۔۔

ورلڈ ہارٹ فیڈریشن کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 8 کھرب 63 ارب ڈالر کی خطیر رقم ہر سال دل سے متعلقہ بیماریوں پر خرچ ہوتی ہے جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 2030ء تک دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات ایک کروڑ 77 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ30 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہیں۔۔۔

ملک پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں 40 سے 45 برس کی عمر کے لوگوں میں دل کا عارضہ لاحق ہوتا ہے۔ دو دہائی قبل دل کے امراض امیر لوگوں میں تصور کئے جاتے تھے مگر اب سفید پوش اور غریب مریض بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں جس جس کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی تمباکو نوشی، بازاری کھانوں کا زیادہ استعمال اور ورزش سے گریز ہے۔۔۔

ماہرین نے دل کے امراض کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی کو قرار دیا ہے، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ صحت مند غذا، جسمانی سرگرمیوں اور باقاعدہ ورزش سے دل کے امراض سے بچاجاسکتا ہے۔۔۔

ڈاکٹروں کے مطابق صبح کی سیر اور ورزش بلڈ پریشر،، شوگر لیول اور کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول میں رکھتی ہے اور انسان دل کے امراض سے محفوظ رہتا ہے۔
صبح کی تازہ ہوا نسان کے دل و دماغ کو راحت بخشتی ہے ،جدید تحقیق کے مطابق صبح کے وقت واک اور ورزش کرنے سے بینائی بھی بہتر ہوتی ہے اور انسان کا پورادن پرسکون گزرتا ہے ۔۔۔

مزید طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماری کی فوری تشخیص اور علاج سےدل کی بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے تاہم سرکاری ہسپتالوں میں ناکافی سہولیات اور دل کی بیماریوں سے آگاہی میں کمی اس کے قابو پانے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ دل کے امراض کا علاج مہنگا اور مشکل ہے اس لیے مرض لاحق ہونے سے قبل ہی کھانے پینے اور روز مرہ کی عادات کو درست کرنا چاہیے۔۔۔

Comments
Loading...